شادیوں، تہواروں اور خوشی کے دیگر مواقع پر مرغن، تلی ہوئی اشیا اور مٹھائیوں کا استعمال عام ہے، تاہم ضرورت سے زیادہ کھانا بعض افراد بالخصوص دل، بلند فشارِ خون (بلڈ پریشر) اور ذیابیطس کے مریضوں کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق بھاری کھانا کھانے کے بعد نظامِ ہاضمہ کے لیے خون کی فراہمی بڑھ جاتی ہے، جس سے دل پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ اگرچہ صحت مند افراد اس تبدیلی کو برداشت کر لیتے ہیں لیکن شریانوں کی تنگی کا شکار افراد کے لیے یہ صورتحال نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔زیادہ چکنائی، نمک اور ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس کا مسلسل استعمال بلڈ پریشر میں اضافے اور جسم میں پانی جمع ہونے کا سبب بنتا ہے۔ طویل وقت تک بھوکا رہنے کے بعد یکدم بہت زیادہ کھانا یا بھاری کھانے کے فوراً بعد سخت جسمانی مشقت کرنا بھی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ اکثر لوگ بدہضمی اور دل کی تکلیف میں فرق نہیں کر پاتے؛ سینے میں دباؤ، جکڑن، درد کا بازو یا جبڑے تک پھیلنا، سانس میں دشواری، ٹھنڈے پسینے اور چکر آنا دل کی بیماری کی ممکنہ علامات ہیں، جنہیں محض گیس سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔طبی ماہرین کے مطابق تقریبات میں پسندیدہ کھانوں سے مکمل پرہیز کی بجائے اعتدال پسندی اختیار کی جائے۔ کم مقدار میں اور آہستہ کھانا، نمک و چکنائی کا محدود استعمال اور کھانے کے اوقات میں توازن برقرار رکھنا مفید ثابت ہوتا ہے۔ دل کے مریضوں کو اپنی ادویات کی باقاعدگی اور معالج کی ہدایات پر سختی سے عمل پیرا رہنا چاہیے، جبکہ غیر معمولی علامات کی صورت میں فوری ہنگامی طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔







