خیبرپختونخوا بار کونسل نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذکے خلاف 19 اکتوبر کو صوبہ بھر میں ہڑتال کااعلان کردیاجبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کو عدالت میں پیش کرنے یا رہا کرنے اور لاپتہ وکیل امیر اعجاز کو 24 اکتوبر تک عدالت میں پیش نہ کرنے کی صورت میں سخت اقدامات کی وارننگ بھی دی ہے۔گزشتہ روز بار کونسل کے وائس چیئرمین اسفندیار خان اور چیئرمین ایگزیکٹو ملک عماد اعظم ایڈوکیٹس نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بتایاکہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اس غیر قانونی اقدام کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور سپیکر صوبائی اسمبلی نے اگر کوئی جرم کیا ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے بصورت دیگر انہیں رہا کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ لاپتہ وکیل امیر اعجاز کو 24 اکتوبر تک عدالت میں پیش کیا جائے بصورت دیگر بار کونسل انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور ہوگی۔اسفندیار خان ایڈوکیٹ نے بتایا کہ وکلاءکو ہراساں کرنے کے واقعات کی روک تھام کےلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو گورنر اور انسپکٹر جنرل آف پولیس سے ملاقات کرے گی تاکہ کسی وکیل کو غیر قانونی طور پر ہراساں نہ کیا جائے۔وکلاءکے گھروں پر چھاپوں سے گریز کیاجائے اس موقع پر چیئرمین ایگزیکٹو ملک عماد اعظم کاکہناتھاکہ بار کونسل کے اجلاس میں تمام وکلاءتنظیموں کے نمائندے شریک تھے اور ارکان کے جذبات شدید تھے تاہم بار کونسل تمام معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بار کونسل ایک ذمہ دار ادارہ ہے اور وہ ایسے فیصلے کرے گی جن کے دور رس اثرات ہوں گے۔ اس سلسلے میں 24 اکتوبر کو صوبے کی تمام بار ایسوسی ایشنز کے صدور کو اجلاس میں طلب کیا گیا ہے جہاں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ہوش کے ناخن لے کیونکہ خیبرپختونخوا ہم سب کا صوبہ ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے گرفتار رہنماو¿ں اور وکلاءکی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔







