کور کمانڈر الیون کور، لیفٹیننٹ جنرل عمیر احمد بخاری نے اتوارکوپٹائی پل کے مقام پر ایس آر ایس پی کے تعمیر کردہ پلوں اور سڑک کے منصوبوں کا افتتاح کیا جو دور افتادہ وادیوں ارسون اور پٹائی کو مرکزی چترال پشاور روڈ سے ملاتے ہیں۔ کور کمانڈر نے کمیونٹی کی دعوت پر منصوبوں کا دورہ کیا۔یہ دو جیپ ایبل معلق پل اور آٹھ کلومیٹر طویل سڑک ایس آر ایس پی نے جرمن حکومت کے تعاون سے پیٹریپ فائونڈیشن پراجیکٹ کے تحت تعمیر کیے ہیں۔دریائے چترال پر بننے والے پل کا اسپین 400فٹ ہے اور اس پر 16کروڑ روپے لاگت آئی ہے، جبکہ دوسرا پل 200فٹ اسپین کے ساتھ نگر گول نالے پر 13کروڑ 40لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔ چترال پشاور روڈ سے 12کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی آٹھ کلومیٹر سڑک ارسون کے عوام کو ہر موسم میں آمدورفت کی سہولت فراہم کرے گی۔ارسون کے رہائشی عبداللہ خان نے بتایا کہ پہلے ارسون وادی تک پہنچنے میں تقریباً پانچ گھنٹے لگتے تھے جبکہ نئی سڑک سے یہ فاصلہ صرف پچیس منٹ میں طے ہوتا ہے۔ یہ سڑک ہر موسم میں کھلی رہے گی جبکہ پرانی سڑک سال میں صرف آٹھ سے نو ماہ ہی کھلی رہتی تھی۔ پٹائی گائوں کے بزرگ احسان نے کہا کہ پٹائی گائوں مرکزی سڑک سے مکمل طور پر کٹا ہوا تھا۔ پل کی تعمیر سے وادی کا رابطہ بحال ہوا ہے اور 40ہزار آبادی کے لیے معاشی مواقع کے نئے دروازے کھلے ہیں۔ایس آر ایس پی کے سی ای او مسعود الملک نے کور کمانڈر کو بتایا کہ ایس آر ایس پی نے جرمن حکومت اور پیٹریپ فانڈیشن کے تعاون سے چترال میں 2.3 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس کے تحت وادی ارندو روڈ سمیت 57 کلومیٹر سڑکیں تعمیر کی گئی ہیں۔ 48 سرکاری سکولوں کی ازسرنو تعمیر کی گئی اور کئی سکولوں کو فرنیچر اور کمپیوٹرز جیسی بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں۔ منصوبے کے تحت زرعی تحقیقاتی مرکز چترال اور ارندو میں مارکیٹنگ سینٹر کی تعمیر میں بھی مدد فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایس آر ایس پی اس منصوبے کے تحت خیبر، کرم، باجوڑ اور شمالی وزیرستان میں بھی عوامی انفراسٹرکچر کی تعمیر میں مدد کر رہی ہے۔کور کمانڈر نے ایس آر ایس پی کے کام کو سراہا اور دعوت دینے پر کمیونٹی اور ایس آر ایس پی کا شکریہ ادا کیا







