خیبرپختونخوا میں تعلیمی نصاب میں تاخیر بچوں کا مستقبل خراب کررہی ہے

پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک (پین) خیبرپختونخوا کے صوبائی صدر محمد سلیم خان نے صوبے میں تعلیمی زبوں حالی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے شعبہ تعلیم کو صوبائی اختیار میں دینا ملک کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے، اس لیے نصاب سازی کا عمل وفاق کے پاس ہونا چاہیے تاکہ ملک بھر میں یکساں تعلیم ممکن ہو سکے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں محکمہ تعلیم کے حکام مسائل کے حل میں سنجیدہ نہیں جس سے بچوں کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ دیگر صوبوں اور وفاق میں سال 2024 کا نیا نصاب شائع ہو کر تدریسی عمل مکمل ہو چکا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں اب بھی 2016 کا پرانا نصاب پڑھایا جا رہا ہے جو طلبہ کے ساتھ زیادتی ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس تاخیر کا فوری نوٹس لے کر طلبہ کو جدید نصاب فراہم کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed