سوات ‘6پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کیخلاف مقدمہ درج، پولیس کے چھاپے تیز

گورنر راج اور ایمرجنسی کے فوری بعد ضلع سوات میں 6پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کیخلاف مقدمہ درج کر دیئے گئے، جبکہ گرفتاریوں کیلئے پولیس کی جانب سے چھاپوں کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔سوات میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے دو ارکان قومی اسمبلی اور چار ارکان صوبائی اسمبلی سمیت پارٹی کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔مقدمے میں 28 ستمبر کو احتجاجی مظاہرے کے دوران سڑک بند کرنے، امن و امان خراب کرنے اور ریاستی اداروں کے خلاف تقاریر کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، مقدمہ 11 اکتوبر کو تھانہ سیدو شریف میں درج کیا گیا، جبکہ پولیس نے نامزد افراد کی گرفتاری کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔ مقدمے میں قومی اسمبلی کے ارکان ڈاکٹر امجد اور سہیل سلطان سمیت صوبائی اسمبلی کے ارکان فضل حکیم یوسفزئی، علی شاہ، اختر علی اور حمید الرحمن کو نامزد کیا گیا ہے۔پی ٹی آئی ملاکنڈ ڈویژن کے صدر فضل حکیم اور صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی کے نام بھی مقدمے میں شامل ہیں، ایف آئی آر میں دیگر پی ٹی آئی کارکنوں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق 28 ستمبر کو ڈی آئی جی مالاکنڈ کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا، مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مظاہرین نے سرکاری سڑک بند کی اور ریاستی اداروں کے خلاف تقاریر کیں۔مقدمہ بغاوت اور امن و امان خراب کرنے سے متعلق الزامات کے تحت درج کیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق مقدمے میں نامزد افراد کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed