خیبر پختونخوا بار کونسل نے صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کل 13 اکتوبر بروز منگل کو صوبہ بھر میں یوم سیاہ منانے اور عدالتوں میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔خیبر پختونخوا بار کونسل پشاور کے دفتر سے جاری پریس ریلیز کے مطابق، کونسل نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر معمولی آئینی اقدام اور اختیارات کو سیاسی اختلافات کی بنیاد پر منتخب صوبائی حکومت کو ختم کرنے یا عوام کے مینڈیٹ کو غیر موثر بنانے کے لیے استعمال کیا ہے۔ بار کونسل نے کہا کہ آئین پاکستان کے تحت ایسے غیر معمولی اقدامات کا جواز متعلقہ آئینی شرائط، قانونی تقاضوں اور مقررہ طریقہ کار کی مکمل پاسداری سے مشروط کیا ہے۔ ان اختیارات کا استعمال کسی بھی سیاسی مقصد کے لیے وفاقی ڈھانچے، پارلیمانی جمہوریت اور صوبائی خود مختاری کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔خیبر پختونخوا بار کونسل نے وفاقی حکومت کے اس غیر جمہوری اقدام کی سخت مخالفت کی ہے اور اسے خیبر پختونخوا کی خود مختاری پر شب خون مارنے کے مترادف اور ناپسند قرار دیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ جمہوریت کی بحالی کے لیے وکلا برادری اپنا کردار ادا کرے گی اور خاموش تماشائی نہیں بنے گی۔اسی سلسلے میں خیبر پختونخوا بار کونسل نے آج منگل کو یوم سیاہ منانے اور عدالتوں میں پیش نہ ہونے کا اعلان کیا ہے اور خیبر پختونخوا بار کونسل جنرل باڈی کا ایمرجنسی اجلاس 17 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا بار کونسل آفس پشاور میں طلب کر لیا گیا ہے، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل اور جمہوری نظام کی بحالی کے لیے تفصیلی بحث اور طریقہ کار پر غور کیا جائے گا۔مزید مطالبہ کیا گیا کہ رابطہ سڑکوں کی بندش کی وجہ سے عوام شدید مشکلات سے دوچار ہے، راستوں کو فوری طور پر کھولا جائے تاکہ روزمرہ کی زندگی بحال ہو سکے







