امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ کے دوران ایران کی صورتحال بہت خراب ہے اور انہیں معلوم نہیں کہ تہران ہتھیار ڈالے گا یا نہیں۔
وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کا مقصد جوہری ہتھیاروں کی تیاری روکنا ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چند روز کے دوران آبنائے ہرمز سے ماضی کے کسی بھی وقت کے مقابلے میں زیادہ تیل نکالا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مقدار اس عرصے سے بھی زیادہ ہے جب جوہری ہتھیاروں کی تیاری روکنے کے لیے جنگ شروع نہیں ہوئی تھی۔
امریکی صدر نے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا کہ ایران کے پاس کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
مصنوعی ذہانت سے متعلق دستاویز پر دستخط
اس سے قبل وائٹ ہاؤس میں مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ رہنماؤں سے ملاقات کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو اے آئی کے میدان میں نمایاں برتری حاصل ہے اور وہ اسے برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
امریکی صدر نے ٹیکنالوجی عہدیداروں کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک دستاویز پر بھی دستخط کیے۔ انہوں نے اسے تحفظ کی ایک شکل قرار دیتے ہوئے کہا کہ نگرانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے مقامات پر بھی بات چیت ہوئی اور ان علاقوں کے لوگوں کو ایسے مراکز کی تعمیر سے مالی فوائد حاصل ہوں گے۔
ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیشکش کی تردید
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک روز قبل ایران کو پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثے واپس کرنے کی پیشکش سے متعلق میڈیا رپورٹس کو مسترد کردیا تھا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے ایران کو ایسی کوئی پیشکش نہیں کی۔ انہوں نے امریکی میڈیا ادارے ایگزیوس کی رپورٹ کو بھی مسترد کرتے ہوئے اسے اپنے خلاف تعصب پر مبنی قرار دیا۔







