لگتا ہے خیبرپختونخوا میں تعلیمی ترجیحات کو پس پشت ڈال دیا گیا،چیف جسٹس

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کہا ہے کہ صوبے میں اس وقت ہمارا تعلیمی نظام تباہی کی طرف جا رہا ہے سینکڑوں کی تعداد میں طلبا نے بہت نمبرز لئے ہیں تاہم جب وہ کالجوں کی سمسٹر فیس کے بارے میں معلومات حاصل کرلیتے ہیں تو پھر داخلہ نہیں لے سکتے کیونکہ یہ ان کے برداشت سے باہر ہوتا ہے اور لگتا یہی ہے کہ صوبے نے تعلیمی ترجیحات کو پس پشت ڈال دیا ہے اور زیادہ تر پیسے دوسرے مقاصد کیلئے استعمال کررہے ہیں یہ ہمارے تعلیمی پسپائی کی ایک مثال ہے انہوں نے مزید ریمارکس دیئے کہ یونیوسٹیز کی کروڑوں روپے مالیت کی زمینیں کوڑیوں کے دام پر کرایوں پر لی جا رہی ہیں فاضل چیف جسٹس نے یہ ریمارکس گزشتہ روز پشاور یونیورسٹی سے ایچ ای سی کی سکالرشپ حاصل کرنے والے لنتھا اقبال سمیت 90 سے زائد طلبا کے کیس کی سماعت کے دوران دیئے۔دوران سماعت پشاور کی جانب سے خالد رحمان ایڈووکیٹ اور اسسٹنٹ رجسٹرار ریاض علی خان پیش ہوئے ۔چیف جسٹس نے درخواست گزاروں کے وکیل سے استفسار کیا کہ یہ کیا مسئلہ ہے ؟ جس پر انہوں نے عدالت کوبتایا کہ 90 سے زیادہ طلبا کو ایچ ای سی سکالر شپ کی مد میں رقم دینی ہے پشاور ہائیکورٹ نے ان کی رٹ منظور کی ہے تاہم اس پر عمل درامد نہیں ہوا ۔چیف جسٹس نے اسسٹنٹ رجسرار ریاض علی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیا مسئلہ ہے جس پر انہوں نے عدالت کوبتایا کہ ہمیں کچھ وقت دے دیں ہم ان کا مسئلہ حل کردینگے ۔انہوں نے عدالت کوبتایا کہ ہمارے پاس اس وقت دو ارب سے زیادہ کا خسارہ آرہا ہے اور گزشتہ ماہ بھی ہمیں تنخواہیں 16 تاریخ کو ملی ہے اس ماہ کی تنخواہ بھی فل حال موجود نہیں ،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے سارے تعلیمی نظام کو خراب کیا ہے اور ہم نے تعلیم کو دوسری ترجیح میں رکھا ہے پہلے ترجیح میں نہیں، اس سے پتہ چلتا ہے ایک بوسٹن شہر میں سینکڑوں یونیورسٹیز ہیں اور ہم پشاور کی قدیم یونیورسٹی کو سنبھال نہیں سکے یونیورسٹی کی ملکیت زمین پر ایسے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جو پانچ سو روپے کا کرایہ دیتے ہیں اور اگلے کو انہوں نے پانچ لاکھ روپے پر دیا ہوتا ہے یہ بڑا المیہ ہے ۔جس پر ریاض علی خان نے کہ اس ضمن میں مختلف کیسز دائر کئے گئے ہیں اور کوشش کررہے ہیں کہ یہ مسئلہ حل ہو جائے ۔چیف جسٹس نے انہیں کہا کہ پشاور یونیورسٹی کے بہت سے شعبے بند ہورہے ہیں کیونکہ طلبا کا اب اس میں انٹرسٹ نہیں زیادہ تر مسئلہ غیر ضروری بھرتیوں کا ہے جس پر ریاض علی نے کہا کہ سال 2012 کے بعد کوئی بھرتی نہیں کی گئی ہے اور صرف فیکلٹی ممبران بھرتے کئے گئے ہیں اور اب بھی ان کے پاس فیکلٹی ممبران کی کمی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیلئے مستقل حل نکالنا ہوگا کیونکہ حکومتوں کے پاس فنڈز نہیں ہے اور ہمیں یہ اطلاعات آ رہی ہیں کہ زیادہ تر کالجز میں طلبا سمسٹر کی فیس زیادہ ہونے کی وجہ سے داخلہ نہیں لے رہے جو کہ ایک المیہ ہے جس پر توجہ دینے ہوگی تاکہ ہم اپنے آئندہ کے نسلوں کو بچا سکیں۔ فاضل چیف جسٹس نے انہی ابزرویشن کے ساتھ سماعت ملتوی کردی اور یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ اس حوالے سے طلبا کا مسلہ حل کریں جبکہ ایچ ای سی کو نوٹس جاری کردیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed