ہیلویٹاس پاکستان کے زیر اہتمام انکلیوسیو پروٹیکشن فار ولنریبل چلڈرن (IPVC) منصوبے کے تحت رابطہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کے نمائندوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، صحافیوں، تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد، قانونی ماہرین اور سماجی کارکنوں سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے فرنٹ لائن ورکرز نے شرکت کی۔اجلاس میں بچوں کے تحفظ سے متعلق اقدامات، حالیہ تربیتی پروگرامز کے اثرات اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کا جائزہ لیا گیا۔شرکاء نے بتایا کہ تربیتی پروگرامز کے بعد بچوں کے تحفظ کے حوالے سے عملی سطح پر بہتری سامنے آئی ہے، جس میں سکول سے باہر بچوں کے دوبارہ داخلوں میں اضافہ، بچوں کے حقوق سے متعلق آگاہی میں بہتری اور تعلیم و فنی تربیت کے ذریعے چائلڈ لیبر میں کمی کے لیے اقدامات شامل ہیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پولیس اہلکاروں میں بچوں سے متعلق حساس معاملات سے نمٹنے کے لیے رویوں اور طریقہ کار میں بہتری آئی ہے، جبکہ جیل حکام کی جانب سے کم عمر قیدیوں کو بالغ قیدیوں سے الگ رکھنے اور ان کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔سماجی بہبود کے اداروں کی جانب سے بھیک مانگنے والے بچوں کی بازیابی اور انہیں رہائش، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔قانونی ماہرین نے حساس مقدمات میں بچوں کی شناخت خفیہ رکھنے، ان کے حقوق کے تحفظ اور انہیں نفسیاتی و سماجی معاونت فراہم کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔شرکاء نے تاہم چائلڈ لیبر کی بلند شرح اور نوجوانوں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کو بچوں کے تحفظ کے لیے اہم چیلنجز قرار دیتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مزید تربیت اور کمزور خاندانوں کے لیے معاشی معاونت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس کے اختتام پر بچوں کے تحفظ کے لیے مختلف اداروں کے درمیان تعاون اور رابطہ کاری مزید مؤثر بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ہیلویٹاس پاکستان نے پشاور سمیت خیبر پختونخوا میں بچوں کے لیے محفوظ اور سازگار ماحول کی فراہمی کے لیے مربوط کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ ک







