نیند کی کمی اور بے خوابی کا فالج و دیگر دماغی امراض سے گہرا تعلق دریافت

نیند انسان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے ایک انتہائی اہم اور بنیادی عمل ہے، تاہم دنیا بھر میں کروڑوں افراد بے خوابی (انسومنیا) کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک طبی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگر بے خوابی کا مسئلہ مسلسل رہے تو فالج جیسے جان لیوا اور معذور کر دینے والے مرض کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔معروف طبی جریدے ‘سلیپ میڈیسن ریویوز’ (Sleep Medicine Reviews) میں شائع ہونے والی اس جامع تحقیقی رپورٹ میں ماضی کی ۹ مختلف تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا، جس میں مجموعی طور پر ۱۳ لاکھ سے زائد افراد کا ڈیٹا شامل تھا۔ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ مسلسل بے خوابی کے شکار افراد میں عام لوگوں کے مقابلے میں فالج کا خطرہ ۲۶ فیصد جبکہ کسی بھی طبی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہونے کا امکان ۲۸ فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ نیند کی عدم فراہمی سے متعدد دیگر پیچیدہ دماغی و اعصابی بیماریاں بھی جنم لے سکتی ہیں۔دوسری جانب، طبی ماہرین نے بے خوابی سے بچاؤ کے لیے باقاعدہ جسمانی سرگرمی کو بھی انتہائی مؤثر قرار دیا ہے۔ جریدے ‘بی ایم جے اوپن’ (BMJ Open) میں شائع ہونے والی ایک سابقہ بین الاقوامی تحقیق کے مطابق، جو افراد ہفتے میں دو یا اس سے زیادہ بار باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں، ان میں بے خوابی کی علامات پیدا ہونے کا امکان ۲۲ فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خوابیدہ صحت اور ورزش کے درمیان اس گہرے تعلق کو سمجھ کر انسان خود کو فالج اور دیگر دائمی بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed