خیبرپختونخوا میں امن کیلئے وفاق کو پالیسی تبدیل کرنا ہوگی، سہیل آفریدی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے امن و امان سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس اور مسلح افواج نے امن کے قیام کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں، تاہم دو دہائیوں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والا امن دوبارہ بدامنی کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے 80 ہزار سے زائد افراد نے پاکستان کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جبکہ صوبے کے عوام مسلسل دہشتگردی کے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے مختلف مواقع پر ریاستی اداروں اور وفاق کو ممکنہ چیلنجز سے آگاہ کیا اور بدامنی کی واپسی کے خلاف آواز بھی اٹھائی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج خیبرپختونخوا میں فوجی جوان، پولیس اہلکار، خواتین، بچے، بزرگ اور عام شہری دہشتگردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام کی قربانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

محمد سہیل آفریدی نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے امن و امان کے قیام کے لیے اپنے ترقیاتی بجٹ میں 35 ارب روپے کی کٹوتی کرکے پولیس کو وسائل فراہم کیے، جبکہ مالی سال 2026 میں پولیس کے بجٹ میں 103 فیصد اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی نفری، استعدادِ کار اور اسپیشل برانچ کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ جدید اسلحہ اور ضروری آلات بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صرف پولیس کو وسائل فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ وفاقی سطح پر پالیسی میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا کے تمام اسٹیک ہولڈرز، حکومتی اداروں، انتظامیہ اور پولیس کو اعتماد میں لے کر نئی حکمت عملی مرتب کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر صوبائی حکومت کی تجویز کردہ پالیسی پر عمل کیا جائے تو مختصر مدت میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے مفادات، جان و مال کے تحفظ اور پائیدار امن کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed