پولیس کی موجودگی میں وزیر کو لے جانیوالے کون ہیں؟ جسٹس اعجازانور

پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور نے کہا ہے کہ جب ایک وقوعہ کی ایف آئی آر درج ہو جائے تو پھر عدالت کا دائرہ محدود ہو جاتا ہے اور عدالت اس میں تفتیش کی حد تک ہدایات جاری کر سکتی ہے اور کس نے کام کیا ہے اور یہ کون لوگ ہیں جو پولیس کی موجودگی میں صوبائی وزیر کو لے گئے۔فاضل جسٹس نے یہ ریمارکس گزشتہ روز صوبائی وزیر فضل شکور کی حراست سے متعلق دائر رٹ کے دوران جاری کئے۔رٹ پٹیشن کی سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل بنچ نے کی۔ سماعت شروع ہوئی تو صوبائی وزیر کے بھائی انور علی کے وکیل بشیر وزیر ایڈوکیٹ نے عدالت کوبتایا کہ پیر کے روز صوبائی وزیر فضل شکور کو دن دھاڑے موٹروے انٹر چینج سے اغوا کیا گیا اور جس جگہ سے صوبائی وزیر کو اغوا کیا گیا وہاں پر سڑک کے دوسری طرف پولیس، ایکسائز اور دیگر محکموں کے ناکے ہیں اور وہ تماشہ دیکھ رہے تھے۔ وکیل نے عدالت کوبتایا کہ آئی جی خیبر پختون خوا کو سپیکر نے اسمبلی اجلاس کے دوران طلب کیا تھا تاہم آئی جی اسمبلی اجلاس سے بھی غائب رہے جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ یہ تو صوبائی حکومت کی کمزوری ہے ۔ درخواست گزار کے وکیل نے بتایاکہ فضل شکور 2013 سے صوبائی اسمبلی کے ممبر ہے، سادہ کپڑوں میں مسلح افراد نے صوبائی وزیر کے گاڑی کے ٹائروں پر فائرنگ کی،جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ یہ کون لوگ ہے۔؟ پولیس کیا کررہی ہے۔؟ جسٹس اعجاز انور نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بلال خلیل سے استفسار کیا کہ ایف آئی آر درج کی گئی ہے؟ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کوبتایا کہ ایف آئی آر درج کی گئی ہے، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ ایف آئی آر درج کی گئی ہے تو پھر ہم کیا کرسکتے ہیں ہمیں بتا دیں اگر مغوی کہیں پر ہے تو ہم کسی کو بھیج دینگے۔وکیل نے عدالت کوبتایا کہ جس طرح فائرنگ کی گئی، اس طرح تو فلسطین میں بھی نہیں دیکھی، پولیس وزیر کو نہیں بچا سکیں تو ہمیں کیا تحفظ دینگے آپ اعلیٰ پولیس حکام کو بلائیں دو دن میں کیا تحقیقات کی ہے کیونکہ صوبے میں اغواکاری کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کوبتایا کہ یہ جو واقعات ہورہے ہیں ہم تو کہتے ہیں اس جوڈیشل انکوائری کرائی جائے، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ صوبائی حکومت درخواست کرے تو پھر اس کو دیکھیں گے، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پہلے بھی ہم نے 9 مئی میں جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست کیا تھا جس پر ہائیکورٹ نے رضا مندی ظاہر نہیں کی ،جوڈیشل کمیشن کے لئے چیف جسٹس ہائیکورٹ کی رضا مندی ضروری ہے، عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر انوسٹیگیشن آفیسر کو طلب کرتے ہوئے سماعت 25 ستمبر تک ملتوی کردی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed