پشاور ہائیکورٹ نے مردان سے لاپتہ ہونے والے وکیل امیر اعجاز کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت مکمل کرتے ہوئے پولیس کو تمام قانونی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کے ساتھ کیس نمٹا دیا ہے۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کی۔ دورانِ سماعت آر پی او مردان قاسم خان، ڈی پی او مردان مسعود بنگش، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نیاز محمد اور درخواست گزار کے وکیل یاسر خٹک ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے دوران آر پی او مردان نے عدالتی استفسار پر بتایا کہ واقعے کی ایف آئی آر درج کر کے جے آئی ٹی (JIT) تشکیل دے دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی کیمروں اور موٹروے کے ریکارڈ کی مدد سے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے، جبکہ سیشن جج اور بار کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی گئی ہے۔ وکیلِ صفائی نے موقف اختیار کیا کہ عدالت کی جانب سے نوٹس جاری ہونے کے بعد ہی پولیس نے مقدمہ درج کیا۔سماعت کے دوران چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "میں اس ایس ایچ او کو مانتا ہی نہیں جس کے علاقے میں جرم ہو اور اسے خبر نہ ہو”۔ فاضل چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کرپٹ آفیسرز کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی اور موجودہ نظام کی اصلاح کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ عدالت نے جے آئی ٹی اور پولیس کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ پولیس لاپتہ وکیل کی جلد از جلد بازیابی یقینی بنائے اور درخواست کو نمٹا دیا۔






