پشاور ہائیکورٹ نے افغان ٹرینی ڈاکٹرز کی ملک بدری روک دی

پشاور ہائیکورٹ نے افغان ٹرینی ڈاکٹرز کی ملک بدری کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے درخواست گزار ڈاکٹرز کو آئندہ سماعت تک افغانستان واپس بھیجنے سے روک دیا۔درخواستوں پر سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس کامران حیات میانخیل نے کی۔ عدالت نے پی ایم ڈی سی اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔وکیل طارق افغان ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزاروں کا تعلق افغانستان سے ہے اور وہ قانونی ویزوں پر پاکستان آئے ہیں، جبکہ اس وقت مختلف اسپتالوں میں اسپیشلائزڈ ٹریننگ حاصل کررہے ہیں۔وکیل درخواست گزار کے مطابق افغان طلبہ کو افغان کوٹے پر مختلف کالجوں میں ایڈجسٹ کیا گیا تھا، تاہم اب پی ایم ڈی سی نے ان کے داخلے منسوخ کرکے انہیں افغانستان واپس جانے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔طارق افغان ایڈووکیٹ نے مقف اختیار کیا کہ پی ایم ڈی سی کے نوٹیفکیشن کے بعد میڈیکل کالجز نے بھی طلبہ کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔وکیل درخواست گزار نے عدالت میں مقف اپنایا کہ یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 25، آئین کی دیگر شقوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔پشاور ہائیکورٹ نے افغان ٹرینی ڈاکٹرز کو آئندہ سماعت تک ملک بدر نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کردیے اور ان سے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed