انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت پشاور نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لیے اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار ملزم کو دہشت گردی سمیت مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 9 سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی۔ مقدمے کی سماعت انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ولی محمد خان نے کی۔پراسیکیوشن کے مطابق ملزم کے خلاف 10 اکتوبر 2024 کو تھانہ سی ٹی ڈی پشاور میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ملزم پر الزام تھا کہ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر شیراز کے لیے موٹر کار کے ذریعے بھاری اسلحہ اور گولہ بارود لے کر جا رہا تھا، جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کے دوران گرفتار کیا۔پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے خلاف مقدمے میں ٹھوس شواہد موجود ہیں اور تفتیش کے دوران اسلحہ و گولہ بارود کی برآمدگی سمیت دیگر شواہد بھی حاصل کیے گئے۔ استغاثہ نے عدالت سے ملزم کو قانون کے مطابق سزا دینے کی استدعا کی۔عدالت نے مقدمے کی سماعت مکمل ہونے اور پیش کیے گئے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ملزم کو دہشت گردی سمیت مختلف دفعات کے تحت قصوروار قرار دیتے ہوئے مجموعی طور پر 9 سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی۔







