پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے لاہور میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں آئینی حکومت کے باوجود عملاً گورنر راج نافذ کیا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں عوام کے منتخب کردہ اراکینِ اسمبلی اور وزراء کے باوجود وفاق کا سکہ چل رہا ہے، جو کہ ملک میں جمہوری قدروں کے لیے انتہائی خطرناک عمل ہے۔بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے لاہور آئے ہیں، جن کی گرفتاری کو انہوں نے بدترین سیاسی انتقام قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کے خانقاہی و خاندانی افراد سمیت آٹھ اراکینِ قومی اسمبلی کو گرفتار جبکہ متعدد صوبائی وزراء کو لاپتہ کر دیا گیا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ پارٹی ۲۷ ستمبر کے لانگ مارچ کو مکمل پرامن رکھنا چاہتی ہے، تاہم حکومت اس احتجاج کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا پھیلا رہی ہے۔انہوں نے سیاسی بحران کے سیاسی حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر عباس اور پی ٹی آئی کی سینئر قیادت افہام و تفہیم کے لیے تیار ہے، لیکن حکومت کی جانب سے مذاکرات کی باتیں صرف زبانی جمع خرچ تک محدود ہیں۔ بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ سیاست میں کوئی حرفِ آخر نہیں ہوتا اور جو عناصر پی ٹی آئی کی سیاست ختم کرنے کے درپے ہیں، ان کا اپنا سیاسی انجام سب کے سامنے آئے گا۔







