اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63 ویں اجلاس کے دوران پانی کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ہے جہاں پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کا معاملہ عالمی فورم پر بھرپور طریقے سے اٹھا دیا ہے۔جنیوا میں اجلاس کے دوران پاکستانی سفارتکار عدیل ممتاز کھوکھر نے پاکستان کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور پانی کو دبائو کے آلے کے طور پر استعمال کررہاہے ۔پاکستانی موقف میں واضح کیا گیا کہ سندھ طاس کا پانی کروڑوں پاکستانیوں کے بنیادی حقوق سے جڑا ہوا ہے اور انڈس بیسن کے پانی پر کسی بھی یکطرفہ اقدام سے لاکھوں افراد کے بنیادی حقوق شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ پانی کے معاملے کو سیاسی تنازع بنانے کے بجائے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔پاکستانی سفارتکار کی جانب سے موقف پیش کیے جانے پر بھارتی سفارتکار نے اعتراضات اٹھائے، تاہم عدیل ممتاز کھوکھر نے ان اعتراضات کا انتہائی مدلل جواب دیتے ہوئے تمام بھارتی دعوے سرے سے مسترد کر دئیے، جس پر بھارتی سفارتکار شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے۔اس کے علاوہ پاکستانی سفارتکار نے اپنے خطاب میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کے جاری مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا معاملہ بھی شدومد کے ساتھ اٹھایا۔







