وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا ہاس، اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے تین ججز کے حکم کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا، جو انتہائی افسوسناک اور تشویشناک امر ہے۔ ججز نے باقاعدہ حکم دیا تھا کہ عمران خان کا علاج شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں کرایا جائے، مگر حکومت اور انتظامیہ نے اس حکم پر عمل درآمد نہیں کیا۔ وزیراعلی نے کہا کہ حکومت اور انتظامیہ آئین و قانون سے بالاتر ہونے کا تاثر دے رہی ہیں۔ انہیں عدلیہ اور ججز کے احکامات کا کوئی خوف نہیں۔ اب ججز کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ عدالتوں کو تالے لگانے ہیں یا اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کرانا ہے۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کا علاج نہ کرانا صرف تین ججز کے حکم کی توہین نہیں بلکہ پوری عدلیہ کی توہین ہے۔ عوام کی امید عدلیہ سے وابستہ ہے۔ اگر عدلیہ انصاف نہیں کرے گی اور اپنے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کرا سکے گی تو عوام کس طرف جائیں گے؟ انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان کے مقبول ترین لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔ عام پاکستانی اس پاکستان میں اپنا مستقبل کیسے دیکھے گا جہاں عمران خان جیسے مقبول ترین لیڈر کے ساتھ یہ رویہ روا رکھا جا رہا ہے؟ وزیراعلی نے کہا کہ اشرافیہ نے عمران خان کو اغوا کرکے جیل میں ڈال دیا اور اب آئین و قانون سے بالاتر ہونے کا تاثر دیا جا رہا ہے۔ اگر طاقتور لوگ عدلیہ اور ججز کے احکامات نہیں مانیں گے تو پھر ملک میں ہر شخص قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی طرف جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ججز کو آج ہی فیصلہ کرنا ہوگا کہ انہوں نے اپنے احکامات پر عمل درآمد کرانا ہے یا عدالتوں کو بند کرنا ہے۔ وزیراعلی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اپنی تحریک جاری رکھے گی اور عمران خان کا حکم سر آنکھوں پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے انہیں تحریک تیز کرنے کی خصوصی ہدایت کی ہے اور ان شااللہ تحریک پہلے سے زیادہ تیز ہوگی۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ آج ہنگو اور کل بونیر جائیں گے، جس کے بعد پورے پاکستان کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی قانونی ٹیم توہین عدالت کے معاملے پر قانونی کارروائی کرے گی۔ وزیراعلی نے کہا کہ حکومت نے اپنی رپورٹ میں بھی عمران خان کی صحت کو مکمل طور پر ٹھیک قرار نہیں دیا تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر عدلیہ اور عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جیل کے اطراف پاکستان تحریک انصاف کا کوئی کارکن موجود نہیں تھا اور پارٹی کی جانب سے بھی کسی کو وہاں جانے کی کوئی ہدایت نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ جیل کے اطراف جانے والے شخص کا پاکستان تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ تحریک مزید تیز ہوگی اور عوام کی توقعات سے بھی زیادہ تیزی سے آگے بڑھے گی۔ اب دبا دوگنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے 27 ستمبر کے عوامی اجتماع کے لیے 20 لاکھ افراد کی شرکت کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم حالیہ واقعے کے بعد 27 ستمبر کو اس سے بھی زیادہ تعداد میں عوام نکلے گی







