شانگلہ میں ٹیکسوں کے نفاذ کیخلاف مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال

ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف شانگلہ میں تاریخی اور کامیاب شٹر ڈاؤن ہڑتال مختلف علاقوں میں پہیہ جام بھی ہوا ۔ ضلع بھر کے تمام بازار، مارکیٹیں، نجی ہسپتال، ٹیوشن سینٹرز، ہوٹل، تجارتی مراکز، بیشتر ٹرانسپورٹ اڈے مکمل طور پر بند رہیں،شانگلہ کے صدر مقام الپوری، مرکزی شہر بشام ،پورن،چکیسر،شاہ پور، کانا اجمیر، الندر، مارتونگ، الوچ،دندئی،بیلے بابا،ڈھیری سمیت مختلف چھوٹے بڑے بازار مارکیٹس اور دیگر علاقوں میں تاریخی کامیاب شٹر ڈاؤن ہڑتال اور پہیہ جام کے باعث معمولات زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئے۔ہڑتال کے دوران تندور تک بند رہے جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دودھ، دہی کی دکانوں سمیت اشیائے خوردونوش کی دکانیں بند رہیں،ہوٹل بند رہے، بیشتر سرکاری دفاتر میں حاضری نہ ہونے کے برابر رہی جبکہ نجی دفاترمکمل ،بینکس بندرہے اے ٹی ایمزتک کوٹالے لگادیں گئے۔ مرکزی بازاروں سمیت گلی کوچوں کی دکانیں بھی بند رہیں جبکہ شانگلہ کے بالائی علاقوں کے تاجروں نے بھی ٹیکسوں کے خلاف یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی دکانیں بند رکھیں۔ ضلع بھر میں ہر طرف ایک ہی مطالبہ سنائی دیتا رہا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کا نفاذ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔مظاہرین، تاجروں، سماجی رہنماؤں اور مختلف تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کا نفاذ یہاں کی قانونی، آئینی، اخلاقی اور جغرافیائی حیثیت کے خلاف ایک منظم سازش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے یکطرفہ طور پر ٹیکس نافذ کیے ہیں جنہیں ملاکنڈ ڈویژن کا کوئی بھی فرد قبول کرنے کیلئے تیار نہیںاور نہ ہی یہاں کے عوام معاشی طور پر اس قابل ہیں کہ مزید ٹیکسوں کا بوجھ برداشت کر سکیں۔ ملاکنڈ ڈویژن پہلے ہی دہشت گردی، مسلسل قدرتی آفات، کمزور تجارت اور معاشی بدحالی کی وجہ سے سخت مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ اس کے برعکس اب یہاں ٹیکسوں کا نفاذ کر دیا گیا ہیں جو ملاکنڈ ڈویژن کے کسی بھی فرد، تاجر، سماجی شخصیت اور عام لوگوں کو منظور نہیں۔ اس فیصلے سے یہاں مزید معاشی بحران پیدا ہوگا اور عوام کسی بھی صورت اس یکطرفہ فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ اسے مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ شانگلہ کی ضلعی عدالتوںسمیت تمام تحصیلوں کی عدالتوں میں بھی وکلا نے احتجاجاً عدالتوں میں پیش نہ ہونے کا اعلان کیا۔ وکلا نے ٹیکسوں کے نفاذ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام 1973 کے آئین کی خلاف ورزی ہے اور آئینی تقاضوں کے منافی ہیں۔ملاکنڈ ڈویژن اور بالخصوص شانگلہ کی تاجر تنظیموں اور رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ریاست سوات کے پاکستان میں انضمام کے وقت اس علاقے کو خصوصی رعایتیں دی گئی تھیں جن میں ٹیکسوں سے استثنیٰ، بنیادی انفراسٹرکچر کی تعمیر، فیکٹریوں اور صنعتوں کا قیام اور علاقے کی بنیادی ترقی شامل تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بھی اس علاقے سے تعلق رکھنے والے بعض افراد پاکستان میں انضمام پر خوش نہیں تھے اور انھوں نے والی سوات کو باقاعدہ طور پر پا کستان میں شمولیت نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا تاہم والی سوات نے وقت کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا کیونکہ اس وقت یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں کہ اس سے علاقے میں مزید ترقی اور بہتری آئے گی۔رہنماؤں نے کہا کہ اس حوالے سے ایک یادداشت اور معاہدہ بھی موجود ہے جس پر اُس وقت کے گورنر کے دستخط موجود ہیں جس کے مطابق یہ علاقہ ٹیکسوں سے مستثنیٰ رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعد ازاں مختلف آئینی ادوار میں بھی اس خطے کی خصوصی حیثیت برقرار رکھی گئی جبکہ آخرکار 1973کے آئین کے آرٹیکل 247 میں بھی ان علاقوں کی خصوصی آئینی حیثیت واضح طور پر درج کی گئی۔ ان کے مطابق آئین میں یہ بھی واضح ہے کہ اگر اس علاقے کی انتظامی یا آئینی حیثیت تبدیل کرنا مقصود ہو تو تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا ضروری ہے تاہم یہاں ایسا نہیں کیا گیا بلکہ یکطرفہ فیصلے کے ذریعے پورے ملاکنڈ ڈویژن پر ٹیکس نافذ کر دیا گیا جسے عوام کسی صورت قبول نہیں کرتے اور نہ ہی وہ ان ٹیکسوں کی ادائیگی کے متحمل ہیں۔مشران کے مطابق یہ معاملہ سپریم کورٹ کے بعد آئینی عدالت میں زیر سماعت ہے لہٰذا ایسے یکطرفہ فیصلے توہین عد الت کے زمرے میں بھی آتے ہیں۔ انھوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا ازخود نوٹس لیں اور ملاکنڈ ڈویژن کے عوام میں پائی جانے والی بے چینی کا فوری خاتمہ کریں۔ملاکنڈ ڈویژن کی مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور عوامی حلقوں نے قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین کی کارکردگی پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ حیران ہیں کہ ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف اضلاع سے منتخب ہونے والے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی آخر وہاں کر کیا رہے ہیں اور انہیں اسمبلیوں میں کس مقصد کیلئے بھیجا گیا ہیںجبکہ ان کی موجودگی کے باوجود علاقے کی جغرافیائی اور آئینی حیثیت کو تبدیل کرتے ہوئے یہاں ٹیکسوں کا نفاذ کر دیا گیا۔ عوامی حلقوں کا کہنا تھا کہ کسی بھی سٹیک ہولڈر کو اعتماد میں لیے بغیر علاقے کی آئینی حیثیت تبدیل کرنا خلاف قانون اور خلاف آئین ہے لہٰذا جس نے بھی یہ اقدام کیا ہے اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔انھوں نے مزید کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ کے بعد یکم جولائی سے باقاعدہ طور پر ان کا اطلاق ہو چکا ہیںا ان کی واپسی کیلئے صوبائی اور وفاقی حکومت کو صرف دعوؤں اور اعلانات پر اکتفا کرنے کے بجائے عملی اقدامات کرتے ہوئے یہ فیصلہ فوری طور پر واپس لینا چاہیے۔شانگلہ سے تعلق رکھنے والی مختلف تنظیموں، ٹرانسپورٹ یونین، تاجر تنظیموں، وکلا، صحافیوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز نے واضح کیا کہ شانگلہ سمیت پورے ملاکنڈ ڈویژن میں آج ہونے والا مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام صرف پہلا مرحلہ ہیں اس کے بعد تمام آپشنز پر غور کیا جائے گا۔ انھوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ وہ ہوش کے ناخن لے، فوری طور پر ٹیکسوں کے نفاذ کا فیصلہ واپس لے اور علاقے کے عوام میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ کرے۔شٹر ڈاؤن ہڑتال اور پہیہ جام کے دوران تمام بینک، کاروباری مراکز اور اے ٹی ایمز بھی بند رہے جبکہ ضلع بھر میں کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر معطل رہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed