وفاقی حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کے درمیان گردشی قرضے میں سترہ سو ارب روپے تک کمی کرنے کے حوالے سے سیٹلمنٹ پلان پر اتفاق نہیں ہوسکا۔رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے گیس سیکٹر کے گردشی قرض کے سیٹلمنٹ پلان کیلئے نئی شرائط پیش کردی ہیں، ملک میں گیس سیکٹر کا مجموعی گردشی قرضہ 3300 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جس پر آئی ایم ایف نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور آئی ایم ایف نے حکومت کو گردشی قرضے میں کمی لانے کیلئے تجاویز دی ہیں۔ اس بارے میں پاکستان کی اقتصادی ٹیم کے ممبران اور آئی ایم ایف ٹیم کے درمیان ہونیوالے ورچوئل مذاکرات میں حکومتی ٹیم کی جانب سے گردشی قرضے میں سترہ سو ارب روپے تک کی کمی لانے کیلئے تیار کردہ سیٹلمنٹ پلان بارے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور حکومتی ٹیم نے اس سیٹلمنٹ پلان پر آئی ایم ایف کو راضی کرنے کی کوشش کی تاہم اس سیٹلمنٹ پلان پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اتفاق نہیں ہوسکا ہے، فریقین کے درمیاناس معاملے پر حتمی مذاکرات اب ستمبر میں متوقع اگلے اقتصادی جائزہ کے موقع پر ہوں گے۔ذرائع کے مطابق گردشی قرض کے سیٹلمنٹ پلان کیلئے آئی ایم ایف نے نئی شرائط بھی پیش کردیں اور مذاکرات کے اگلے مرحلے سے پہلے ان شرائط کو پورا کرنے کی تجویز دی ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا موقف ہے کہ سیٹلمنٹ پلان میں گیس کمپنیوں کے نقصان کا بھی اندراج ہونا چاہئے جو وصولیاں کرنی ہیں ان کو بھی واجبات کے بھی نقصان قرار دیا جائے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف حکام کا کہنا ہے کہ مجموعی نقصان بک کرنے کے بعد کمپنیوں کو ری کیپٹلائز کیا جائے، پٹرولیم ڈویژن حکام کو سیٹلمنٹ پلان کیلئے آئی ایم ایف کی شرائط پر اعتراضات ہیں، ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ سیٹلمنٹ پلان پر حتمی بات چیت اب ستمبر میں ہی ہوگی، گردشی قرض کم کرنے کا سیٹلمنٹ پلان آئی ایم ایف کے مشورے سے تیار ہوگا۔







