صوبہ میں بدامنی ‘کے پی اسمبلی میں ہنگامہ’ حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

خیبرپختونخوا اسمبلی میں بنوں کی بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال، سرکاری اراضی کی ملکیت، ریسکیو سہولیات، ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ اور بارشوں سے پیدا ہونے والے مسائل پر شدید بحث ہوئی۔ ایوان نے بنوں کی صورتحال پر بحث کے لیے معمول کا ایجنڈا معطل کر دیا، جس پر حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔وزیر قانون آفتاب عالم کی مخالفت کے باوجود رائے شماری کے بعد سپیکر بابر سلیم سواتی نے معمول کا ایجنڈا مخر کرتے ہوئے بنوں کے امن و امان کے معاملے پر بحث کی اجازت دی۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رکن عدنان خان نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ بنوں مسلسل آپریشنز کی زد میں ہے، لیکن کئی برسوں سے امن و امان پر بحث کے باوجود حالات بہتر نہیں ہو سکے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ علاقے میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند ہے، راستے متاثر ہیں اور عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منتخب نمائندوں کو بھی صورتحال سے آگاہ نہیں کیا جا رہا۔عدنان خان نے کہا کہ اگر حکومت حالات کنٹرول نہیں کر سکتی تو استعفی دے دے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آپریشنز سے متعلق فیصلے عوام کے سامنے لائے جائیں اور ایسے اقدامات نہ کیے جائیں جن سے عام شہری متاثر ہوں۔صوبائی وزیر شکیل خان نے کہا کہ دہشت گردی کے مسئلے کو صرف حکومت پر تنقید سے حل نہیں کیا جا سکتا، تمام سیاسی قوتوں کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ امن کے لیے سیاسی قیادت کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور اگر ضرورت ہو تو تمام جماعتیں اسلام آباد جا کر اپنا مقف پیش کریں۔رکن اسمبلی ہمایوں خان نے حالیہ آپریشن میں پولیس اہلکاروں کی شہادت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اہلکار کئی گھنٹے تک زخمی حالت میں موقع پر موجود رہے۔ انہوں نے واقعے کی اعلی سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔رکن اسمبلی سجاد بارکوال نے بنوں کے حالات پر میڈیا اور حکومتی رویے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوام مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے 2024 کی ایپکس کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے کا دعوی کرتے ہوئے فوری اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب اسمبلی اجلاس میں سرکاری اراضی کے مسئلے پر بھی بحث ہوئی۔ رکن اسمبلی داد شاہ نے کوہاٹ کے علاقوں جرما، شاپور اور چکر میں کسانوں کو مالکانہ حقوق دینے کا مطالبہ کیا۔ سابق صوبائی وزیر نذیر عباسی نے کہا کہ موجودہ قوانین کے تحت سرکاری زمین کی ملکیت منتقل نہیں کی جا سکتی، اس لیے نئی قانون سازی ضروری ہے۔وزیر قانون آفتاب عالم نے بتایا کہ لینڈ ڈسپوزل سے متعلق نیا قانون زیر تکمیل ہے، جس میں سرکاری اراضی کے استعمال اور واپسی کا طریقہ کار واضح کیا جائے گا، جبکہ سپیکر بابر سلیم سواتی نے حکومت کو عوامی وعدے پورے کرنے پر زور دیا۔اجلاس میں سوات کے فلک سیر چوٹی حادثے، ریسکیو ہیلی کاپٹر کی عدم دستیابی، ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس نفاذ، پشاور میں نکاسی آب کے مسائل، سیلابی تباہ کاریوں اور شہری سہولیات سے متعلق معاملات بھی زیر بحث آئے۔سپیکر نے ریسکیو سہولیات بہتر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے جدید وسائل ناگزیر ہیں، جبکہ وزیر قانون نے بتایا کہ حکومت ریسکیو مقاصد کے لیے دو ہیلی کاپٹر خریدنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔اجلاس میں اراکین نے امن و امان، عوامی مسائل کے حل اور مثر قانون سازی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed