بھارت کا پاکستان کا نام لئے بغیر امریکہ، ایران مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم

بھارت نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانیوالی مفاہمت کی یادداشت کا پاکستان کا نام لئے بغیر خیر مقدم کرتے ہوئے اس پر محتاط امید کا اظہار کیا ہے ۔بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق برکس کے قومی سلامتی کے مشیروں کے 16 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے کے مشیر برائے قومی سلامتی اجیت ڈوول نے کہا کہ بھارت امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا خیر مقدم کرتا ہے۔ ہم پرامید ہونے کے ساتھ ساتھ محتاط بھی ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ یہ کامیاب ہو گی۔ اس سے توانائی کے تحفظ میں مدد ملے گی۔ آبنائے ہرمز کا کھلنا ایک نہایت خوش آئند پیش رفت ہے۔ برکس اتحاد میں شامل ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کا دو روزہ اجلاس نئی دہلی میں شروع ہوا۔ بھارتی حکومت کے مطابق اجلاس کا موضوع دنیا کو درپیش غیر روایتی سکیورٹی چیلنجز ہے اور اس میں سکیورٹی خدشات میں نئی ٹیکنالوجیز کے کردار پر بحث کی جائے گی۔ سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں شامل مندوبین سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت سے جنم لینے والے خطرات کا بھی جائزہ لیں گے۔ منگل کے روز اجلاس سے خطاب کے دوران مشیر قومی سلامتی اجیت ڈوول نے عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے اس معاہدے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان یہ مفاہمت توانائی کی فراہمی میں زیادہ استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اس اہم آبی گزر گاہ کے ذریعے سمندری نقل و حرکت میں بہتری آنے سے سپلائی چین کی رکاوٹیں دور ہوں گی اور کھاد اور کیمیکلز وغیرہ کے شعبے میں رسد کی کمی کو پورا کیا جا سکے گا۔ بھارتی مشیر قومی سلامتی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بحری آمد و رفت میں کوئی رکاوٹ نہ پڑنے سے خطے کو وسیع تر معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے نائب سیکریٹری غدیر نظامی پور بھی نئی دہلی میں ہونے والے برکس اجلاس میں شریک ہوئے، جبکہ چین کی نمائندگی وزیر خارجہ وانگ یی نے کی۔ روس اور متحدہ عرب امارات کے سیکریٹری برائے سلامتی اور جنوبی افریقہ کے ایوان صدر سے منسلک وزیر اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ قبل ازیں ا جلاس کے موقع پر چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کی انڈین مشیر قومی سلامتی سے ملاقات ہوئی ۔بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اجیت ڈوول اور وانگ یی کے درمیان تعمیری بات چیت ہوئی، دونوں رہنمائو ں نے باہمی تعلقات میں حالیہ پیش رفت پر گفتگو کی اور نوٹ کیا کہ (تعلقات) بتدریج معمول پر آنے کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے۔واضح رہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک میں 2020 کی سرحدی جھڑپوں کے بعد کئی برس تک کشیدگی رہی اور 2024 سے تعلقات میں بہتری آئی تھی۔ ادھر برطانوی خبررساںادارے روئٹرز نے چینی وزارت خارجہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے وانگ یی نے کہا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کا احترام کرنا چاہیے اور حساس امور کو مناسب طریقے سے سنبھالنا چاہیے۔ وانگ نے دو طرفہ مکالمے کے طریقہ کار کی بحالی اور تجارت، مالیات، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور میڈیا میں تبادلوں کو فروغ دینے پر زور دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed