سعودی عرب مئی 2026 کے دوران روس سے سمندری راستے کے ذریعے برآمد کیے جانے والے فیول آئل اور ویکیوم گیس آئل (VGO) کا سب سے بڑا خریدار بن کر سامنے آیا ہے، اگرچہ اس دوران روس کی مجموعی برآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مئی میں روس کی سمندری راستے سے فیول آئل اور ویکیوم گیس آئل کی برآمدات ماہانہ بنیاد پر تقریبا 6 فیصد کم ہو کر 32 لاکھ ٹن رہ گئیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یوکرین کے ڈرون حملوں کے باعث روسی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، جس سے پیداوار اور برآمدات متاثر ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب بدستور روسی فیول آئل کی سب سے بڑی منڈی رہا۔ مئی کے دوران سعودی عرب کو تقریبا 12 لاکھ 30 ہزار ٹن فیول آئل اور وی جی او برآمد کیا گیا، تاہم یہ حجم اپریل کے مقابلے میں 17 فیصد کم رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی اور بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث سعودی عرب میں ایئرکنڈیشننگ کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے بجلی گھروں میں فیول آئل کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔ ایران جنگ کے اثرات اور بعض آئل فیلڈز سے قدرتی گیس کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث سعودی عرب کو اس موسم گرما میں مزید درآمدی ایندھن استعمال کرنا پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فروری 2023 میں یورپی یونین کی جانب سے روسی تیل کی مصنوعات پر مکمل پابندی کے بعد مشرق وسطی اور ایشیا روسی فیول آئل اور وی جی او کی اہم منڈیاں بن چکے ہیں۔ دوسری جانب سنگاپور اور ملائیشیا کو روسی ایندھن کی برآمدات مئی میں 39 فیصد کمی کے ساتھ تقریبا 4 لاکھ ٹن رہ گئیں، جبکہ بھارت کو برآمدات بھی 28 فیصد کم ہو کر تقریبا ایک لاکھ 20 ہزار ٹن تک محدود رہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطی میں جاری کشیدگی اور عالمی توانائی منڈی میں بدلتی صورتحال نے روسی تیل اور ایندھن کی تجارت کے رجحانات پر نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں۔







