نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے ان افواہوں کی تردید کردی ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں کوئی تعطل آیا ہے اور واضح کیا کہ محرم الحرام کی آمد کی وجہ سے دوسرے مرحلے کے مذاکرات میں کچھ تاخیر ہوئی ہے، کیونکہ جولائی کے پہلے ہفتے میں شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی رسومات ادا کی جانی ہیں۔ صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے ان افواہوں کو یکسر مسترد کر دیا کہ مذاکرات میں کوئی تعطل آیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کے عمل میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ہوئی بلکہ طے شدہ پلان کے مطابق اب ہمیں 60 روز کے اندر اندر دوسرے مرحلے کے ان مذاکرات کو ہر صورت مکمل کرنا ہے۔اسحاق ڈار نے کہا خطے میں امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہو گئی ہیں اور پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کرانے میں انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا امریکہ، ایران معاہدے پر وزیراعظم نے بطور ثالث دستخط کیے،امریکی صدر نے فرانس میں معاہدے پر دستخط کیے،پہلے پلان کے مطابق جنیوا میں معاہدے کی تقریب ہونا تھی،محرم کے باعث ایرانی قیادت کی مصروفیات بھی ہیں۔وزیرِ خارجہ نے سوئٹزرلینڈ کے مجوزہ دورے اور معاہدے پر اہم پیش رفت کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ صبح جب ایرانی صدر نے امن معاہدے پر باقاعدہ دستخط کر دئیے، تو اس کے بعد اب سوئٹزرلینڈ جانے کا کوئی مقصد باقی نہیں رہا تھا، اسی لئے ہم نے سوئٹزرلینڈ میں موجود اپنی ٹیموں کو وطن واپس بلا لیا ہے۔انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ آئندہ جب بھی اس سلسلے میں کوئی باقاعدہ تقریب ہوگی تو پاکستان اس میں ضرور شریک ہوگا، جبکہ وہ خود ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کیلئے بھی جائیں گے۔ اسحاق ڈار نے اعلان کیا کہ حکومت عالمی مارکیٹ کے اثرات کے تحت سے عوام کو بڑا معاشی ریلیف ملے گا۔







