پاکستان کو اٹلی کی جانب سے 7 تاریخی نوادرات موصول ہوگئے ۔اٹلی میں پاکستانی سفارت خانے کے بیان کے مطابق نوادرات تمام ضروری قانونی اور انتظامی طریقہ کار مکمل کرنے کے بعد گزشتہ اسلام آباد پہنچ گئے۔پاکستانی سفارت خانے نے مزید بتایا ہے کہ یہ اسمگل شدہ نوادرات بازیابی کے بعد اطالوی حکام کی جانب سے اپریل میں پاکستان کے قونصلیٹ جنرل کے حوالے کئے گئے تھے۔ان نوادرات کی واپسی ثقافتی ورثے کے تحفظ اور تاریخی اشیا کی غیر قانونی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں بھی اٹلی نے 90 قدیم نوادرات پاکستان کو واپس کیے جو 2007 میں ثقافتی ورثے کے تحفظ کیلئے کارابینیری کمانڈ کے ذریعے ضبط کیے گئے تھے۔یہ کوششیں ثقافتی املاک کی حفاظت کے لیے اٹلی کے مسلسل عزم کو ظاہر کرتی ہیں۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے کئی دہائیوں سے گہرے تعلقات ہیں۔دونوں ممالک نے مستقبل میں بھی آثارِ قدیمہ کے حوالے سے تحقیق اور ثقافتی ورثے کا تحفظ کرنے کے لیے مل کر کام کرتے رہنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔واضح رہے کہ 1955 میں معروف اسکالر پروفیسر جیوزیپ ٹوکچی نے سوات میں اطالوی آثارِ قدیمہ کا ایک مشن بھی قائم کیا تھا، جنہیں بعد میں پاکستان نے ہلالِ امتیاز سے نوازا تھا۔ان کے علاوہ دیگر اطالوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ، بشمول پروفیسر لوکا ماریا اولیویری اور پروفیسر والیریا پیاسینٹینی کو بھی ان کی خدمات کیلئے قومی اعزازات دیے جا چکے ہیں۔







