عرب میڈیا نے دو پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اگلے ہفتے ہونے کا امکان ہے۔عرب میڈیا سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں نے کہا کہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع ہے اور ان کا یہ اندازہ کئی عوامل پر مبنی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا کے دو لاجسٹک طیارے نور خان ائیر بیس پر اتر چکے ہیں، ائیرپورٹ سے اسلام آباد کے ریڈ زون تک جانے والی سڑکیں عارضی طور پر بند کر دی گئیں جو سکیورٹی کے سخت انتظامات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ کیا گیا ،جمعہ تک کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں ہے۔دوسری جانب راولپنڈی اور اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ اور ہیوی ٹریفک تاحکم ثانی بند کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس بھی پمز اسٹیشن سے لیکر پاک سیکرٹریٹ تک مکمل بند کر دی گئی ہے۔ قبل ازیں ایران کی صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت گزشتہ روز سچویشن روم میں ہونے والے اجلاس میں صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانیوں سے فون پر بات کی۔ اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس بھی شریک تھے جنہوں نے اسلام آباد ٹاکس میں امریکی وفد کی قیادت کی تھی اور اگلے مذاکرات بھی انہی کی قیادت میں ہونے کاامکان ظاہر کیا گیاہے۔ اجلاس میں موجود دیگر شخصیات میں وزیر خارجہ مارکو رْوبیو، وزیر جنگ پیٹر ہیگستھ، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ، وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز کے علاوہ امریکی صدر کے نمائندے اسٹیو وٹکوف، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور جوائنٹ چیفس کے چیئرمین ڈین کین بھی موجود تھے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اجلاس میں صدر ٹرمپ نے کم سے کم ایک مرتبہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانیوں سے فون پر بات کی۔واضح رہے کہ یہ اجلاس ایسے وقت منعقد کیا گیا جب 3 روز بعد امریکا ایران جنگ بندی کی 15 روزہ مدت ختم ہورہی ہے۔صدرٹرمپ نے کہا تھا کہ اسی ہفتے ڈیل متوقع ہے تاہم امریکا ایران مذاکرات کی نئی تاریخ تاحال طے نہیں کی جاسکی اہم امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اگر مذاکرات میں بریک تھرو نہ ہوا تو آئندہ چند روز میں جنگ دوبارہ شروع ہوسکتی ہے۔ دریں اثناء امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو دیے گئے ٹیلیفونک انٹرویو میں ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے اہم پیش رفت کا اشارہ دیا ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے، امریکا اور ایران کے مذاکرات کار ممکنہ طور پر اسی ہفتے کے آخر میں ملاقات کریں گے، جہاں ایک حتمی معاہدے کو شکل دی جا سکتی ہے۔ٹرمپ کے مطابق یہ ممکنہ معاہدہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرے گا بلکہ اسرائیل کی سیکیورٹی کو بھی یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔امریکی صدر نے لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لبنان میں اسرائیلی حملے جنگ بندی کے حصے کے طور پر فوری بند ہوں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اسرائیل کو اپنی کارروائیاں روکنا ہوں گی۔ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل عمارتوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتا اور امریکا اس کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کے اس بیان کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے تاہم اس کے لیے تمام فریقین کو سنجیدگی اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ہمارا بنیادی موقف خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے تحفظ پر مبنی ہے۔اپنے بیان میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ہم جنگ بڑھانا نہیں چاہتے اور نا ہی ہم نے کوئی جنگیں یا تنازعات شروع کیے۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ ہم کسی ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، ہم اپنے دفاع کا قانونی اور جائز حق استعمال کر رہے ہیں، ٹرمپ کو کوئی حق نہیں کہ وہ عوام کو اس کے حقوق سے روکے۔ایرانی صدر نے کہا کہ ٹرمپ کو حق نہیں کہ وہ کہے، ایران اپنے جوہری حقوق سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔انہوںنے کہاکہ دشمن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا، دشمن نے انفرا اسٹرکچر، اسکولوں اور ہسپتالوں پر حملے کیے







