چترال میں غیرملکی کمپنی نے لیز منسوخی سے متعلق کیس میں وزیراعلی خیبرپختونخوا کی جانب سے قائم انکوائری کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ تاحال پیش نہ کرنے کیخلاف پشاور ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کردی گئی ہے جس میں صوبائی حکومت، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، انڈیپینڈنٹ انکوائری کمیٹی وغیرہ کو فریق بنایا گیا ہے ۔آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر رٹ میں چینی کمپنی ٹونی پاک منرلز لمیٹڈنے رٹ میں موقف اختیار کیاگیاہے کہ درخواست گزار کمپنی چترال میں لیز پر مائننگ کاکام کررہی تھی تاہم اس دوران ان کا لیزمنسوخ کیا گیا جس پر انہوں نے اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے انتظامی وعدالتی راستہ اپنایا ہے ۔اس حوالے سے وزیراعلی خیبرپختونخوانے 24فروری 2026کو ایک انکوائر ی کمیٹی (انڈی پینڈنٹ انکوائری کمیٹی )تشکیل دی اور اسے 7مارچ 2026تک انکوائری مکمل کرکے رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی تاہم ڈیڈلائن گزرنے کے باوجود تاحال انکوائری رپورٹ پیش نہیں کی گئی۔ انہوں نے بتایاکہ اس ضمن میں متعلقہ فورم پر اپیل بھی زیرسماعت ہے تاہم یہ رٹ انکوائری کمیٹی کیخلاف دائر کی گئی ہے کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ صاف وشفاف اور منصفانہ طریقے سے انکوائری مکمل کرکے اس کی رپورٹ پیش کی جائے تاہم مذکورہ کمیٹی اس حوالے سے رپورٹ پیش کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ سید آصف جلال ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر رٹ میںہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ انکوائری کو جلد مکمل کرنے اور رپورٹ ایک مقررہ ٹائم فریم میں پیش کرنے کاحکم دیاجائے جبکہ اس حوالے سے رپورٹ بھی عدالت کو پیش کی جائے۔ عدالت سے یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ انکوائری کمیٹی کیجانب سے اب تک جو انکوائری ہوئی ہے اس کا ریکارڈ اور مواد کو محفوظ رکھاجائے اور اس میںکسی قسم کی تبدیلی اور ردوبدل نہیں ہونی چاہیے۔







