ایکسائز آفیسر کی تعیناتی کالعدم قرار دینے کا فیصلہ معطل

پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انوراورجسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دورکنی بنچ نے اسسٹنٹ ایکسائز ٹیکسیشن آفیسر سعود گنڈا پور کی تعیناتی کو کالعدم قراردینے کے فیصلے کیخلاف دائر ضمنی درخواست منظور کرتے ہوئے ہائیکورٹ کا فیصلہ 60روزتک کیلئے معطل کردیا اور قراردیاکہ درخواست گزاراس عرصے میں اپنے لیے قانونی ریلیف حاصل کرے۔ دورکنی بنچ نے عامر جاوید اور علی گوہردرانی ایڈوکیٹس کی وساطت سے دائرسعودگنڈا پور کی ضمنی درخواست پر سماعت کی۔ اس سے قبل پشاورہائیکورٹ کے دورکنی بنچ نے اذلان اور دیگر 49درخواست گزاروں کی رٹ پر 10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا تھا جس میں ایکسائز ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ ایکسائز ٹیکسیشن آفیسر(اے ای ٹی او)سعودگنڈاپور کی تعیناتی کوچیلنج کیا گیااور ان کی ڈیپوٹیشن پر تعیناتی غیرقانونی اورسیاسی بنیادوں پرقراردیدی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قراردیاتھاکہ ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ آفیسر کی تعیناتی سیاسی اثر و رسوخ پرکی گئی جو قواعدوضوابط کے خلاف ہے۔ عدالت نے 22اپریل 2024کا حکومتی اعلامیہ کالعدم قراردیتے ہوئے سعود گنڈاپورکو عہدہ چھوڑنے کا حکم دیا تاہم درخواست گزار نے اس کیخلاف ضمنی درخواست دائر کی جس پرہائیکورٹ نے مختصرحکم نامہ جاری کردیا ہے ۔ مختصر فیصلے کے مطابق ضمنی درخواست سی پی سی کے رول 5(2)کے تحت دائر کی گئی ہے جس میں 8اپریل کے پشاورہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے تاکہ درخواست گزار اپنے لیے مزید قانونی ریلیف حاصل کرسکے۔ عدالت نے ضمنی درخواست منظور کرلی اور ہائیکورٹ کے سابقہ فیصلے کو 60روز کیلئے معطل کردیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed