قومی ادارہ امراض قلب کراچی میں 40 ارب کی مبینہ کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
ڈائریکٹرجنرل آڈٹ سندھ کی رپورٹ میں مالی سال2023-24 میں 40 ارب روپےکی کرپشن کاانکشاف ہوا۔
وزیرصحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نےمبینہ کرپشن پرنوٹس لے لیا اور مبینہ بےقاعدگیوں پرانکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔
سیکرٹری صحت نے مبینہ کرپشن کی انکوائری کیلئے 2 رکنی کمیٹی تشکیل دی جس میں ایڈیشنل سیکرٹری اور ڈپٹی سیکرٹری صحت شامل ہیں۔
نوٹیفکیشنکے مطابق کمیٹی 15 دن کے اندر انکوائری رپورٹ پیش کرے گی۔
دوسری جانب ترجمان قومی ادارہ امراض قلب کے مطابق آڈٹ پیراز معمول کا جائزہ لینےکاحصہ ہوتے ہیں اور آڈیٹرجنرل کی مشاہداتی رپورٹس ہر سرکاری ادارےکالازمی حصہ ہوتی ہیں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ رپورٹس ادارے کے مالی معاملات میں شفافیت بڑھانے کےلیے مرتب ہوتی ہیں، مشاہدات کو حتمی بدعنوانی قراردینا قبل ازوقت، گمراہ کن اور حقیقت کے منافی ہے۔
ترجمان نے بتایاکہ آڈٹ پیراز کو تحقیق، کارروائی کے بغیرمالی بدعنوانی کےطور پرپیش کرناغیرذمہ دارانہ عمل ہے، آڈٹ رپورٹ 24-2023 میں 18-2017- کی تقرریوں سے متعلق اوردیگرگزشتہ سالوں کی پیراز بنائی گئی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے نومبر 2023 میں اپنا عہدہ سنبھالا تھا۔
ترجمان کے مطابق ایسی کئی پیراز ہیں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے دور سےپہلےکی ہیں، ہم ذمےداری کا مظاہرہ کرتے ہوئےتمام پیرازکاجواب جمع کرائیں گے۔







