مدارس کی آزادی و خود مختاری کا تحفظ کریں گے,مولانا حسین احمد

وفاق المدارس العربیہ پاکستان، دینی مدارس کا سب سے بڑا بورڈ، مدارس کی آزادی اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔ ہم جمعیت علماء اسلام کے ساتھ مل کر مدارس کے خلاف ہونے والی سازشوں کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی ناظم وفاق المدارس العربیہ پاکستان، مولانا حسین احمد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

مولانا حسین احمد نے کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے۔ ہم اس ملک کے شہری ہیں اور ملکی قوانین کا احترام کرتے ہیں۔ ہم ریاست سے تصادم نہیں چاہتے، اور مدارس کی رجسٹریشن سے انکار نہیں۔ تاہم، غیر آئینی اور محض ایک انتظامی آرڈر کے تحت رجسٹریشن کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن 1860 کے سوسائٹی ایکٹ کے تحت کی جائے، جس میں 2005 میں ترمیم کی گئی تھی اور جو قومی اسمبلی، سینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں سے منظور شدہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو دینی مدارس کے بجائے دیگر تعلیمی اداروں کی فکر کرنی چاہیے۔ دینی مدارس کا بنیادی مقصد قرآن و سنت کی اشاعت ہے، نہ کہ روزگار کے مواقع فراہم کرنا۔ مدارس تعلیمی اور رفاہی ادارے ہیں، جہاں 35 لاکھ سے زائد طلبہ و طالبات کو مفت تعلیم اور رہائش دی جاتی ہے۔ مدارس کو آزادی سے خدمات انجام دینے کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔

مولانا حسین احمد نے مزید کہا کہ مدارس کی آزادی و خود مختاری، وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور جمعیت علماء اسلام کا مشترکہ ہدف ہے۔ ہم ہر صورت مدارس کی آزادی و خود مختاری کا تحفظ کریں گے اور مدارس کی فکری آزادی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ مدارس کا تحفظ ہمارا یک نکاتی ایجنڈا ہے اور کسی کو بھی دینی مدارس پر پابندی لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed