جنرل (ر) فیض حمید پھر خبروں میں، اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام
پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ایک مرتبہ پھر خبروں میں ہیں۔ اس مرتبہ ان کا نام سپریم کورٹ میں گردش کر رہا ہے جہاں پہلے فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کے دوران ان کا کردار زیر بحث آیا اور بعد میں ایک کاروباری شخص کی طرف سے ان کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال اور ان کے گھر اور دفتر میں چھاپے کے دوران قیمتی اشیا غائب کروانے کا الزام لگایا۔ رواں ہفتے پاکستان کی عدالت عظمٰی کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس امین الدین اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل بینچ نے ایک نجی ہاؤسنگ سکیم کے مالک معز احمد خان کی جانب سے دائر ایک درخواست پر سماعت کی۔
اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ 12 مئی 2017 کو پاکستان رینجرز اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے اہلکاروں نے دہشت گردی کے ایک مبینہ کیس کے سلسلے میں مذکورہ ہاوسنگ سکیم کے دفتر اور معز خان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر سونے اور ہیروں کے زیورات اور رقم سمیت قیمتی سامان لوٹ لیا تھا۔ درخواست میں عدالت عظمٰی کو بتایا گیا کہ فیض حمید کے بھائی سردار نجف نے بعد ازاں اس معاملے کی ثالثی اور مسئلہ حل کرنے کی کوشش بھی کی اور درخواست گزار کے خلاف قائم کیے گیے مقدمے میں عدالت سے بری ہو جانے کے بعد ان کے ایک رشتہ دار، جو پاکستان فوج میں بریگیڈیئر ہیں، سے ملاقات کرنے کے لیے رابطہ کیا۔ سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ ملاقات کے دوران جنرل (ر) فیض حمید نے درخواست گزار کو کہا کہ وہ چھاپے کے دوران چھینا گیا 400 تولہ سونا اور نقدی کے سوا کچھ چیزیں واپس کردیں گے۔
سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے درخواست کی سماعت کے بعد درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف شکایت کے لیے وزارت دفاع اور دیگر متعلقہ فورمز سے رابطہ کریں۔