کنیڈا میں سکھ رہنماء کے قتل سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان واحد ملک نہیں ہے جس کو بھارتی جاسوس دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں اگر چہ پاکستان نے ہمیشہ اس کے مذموم کو خاک میں ملایا ہے ۔ یاد رہے کہ حال ہی میں کینیڈا میں سکھ علیحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ ننجر کا قتل کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے بھارتی حکومت پر ملوث ہونے کا الزام لگانے کے بعد دنیا بھر میں سرخیوں میں آیا ہے ۔ حال ہی میں شائع ہونے والی رائٹرز کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق را کئی سالوں سے عالمی دبا ئو بنا رہی ہے اور وہ مختلف سازشوں میں ملوث ہے ۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے کئی موجودہ اور سابق بھارتی انٹیلی جنس اہلکاروں سے بات کی تاکہ یہ تصویر پینٹ کرنے میں مدد ملے کہ 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد را نے مغرب میں اپنی موجودگی کو کس طرح پھیلانا شروع کیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ حملے میں ملوث ہونے کے شبہ میں ایک امریکی کی حوالگی کو محفوظ بنانے میں بھارت کی ناکامی تھی تاہم حالیہ حملہ انصاف کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے کے لیے ہندوستان کی رضامندی کی بھی عکاسی کرتا ہے کیونکہ نئی دہلی نے بہت کم ثبوت پیش کیے ہیں کہ ہردیپ ننجر ایک خطرناک دہشت گرد تھا، بجائے اس کے کہ وہ ایک سرکش علیحدگی پسند تھا اور اس نے کسانوں ، طلبا اور اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کیا تھا۔ یہ بھی واضح رہے کہ ڈیوڈ ہیڈلی کی حوالگی کو محفوظ بنانے میں بھارت کی ناکامی، جو اب ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں امریکہ میں 35 سال کی سزا کاٹ رہا ہے۔ ہندوستان نے ہیڈلی کو امریکی ڈبل ایجنٹ ہونے کا دعویٰ کرنے کی حد تک سامنے لایا ہے تاہم بھارت سے جب بھی اس کے اقدامات کی جواب طلبی کی جاتی یا حقیقی ثبوت مانگا جاتا ہے تو وہ باقاعدگی سے پاکستان پر اس کے الزمات تھوپ دیتا ہے۔ایجنسی کے کام میں مہارت رکھنے والے ایک ماہر تعلیم کے مطابق اگرچہ راکی جنوبی ایشیا میں ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ایک طویل وابستگی ہے لیکن یہ مغرب میں کافی غیر فعال تھی جب تک کہ مودی حکومت نے اسے فعال ہونے کا اعتمادنہیں دیا تھا۔ یہ را کے کمزور گورننگ قانون کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کیا گیا جو اسے قانون سازی کی نگرانی کے بغیر اور تقریباً مکمل طور پر وزیراعظم کے حکم پر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ تشویش کا اصل سبب ہونا چاہیے کہ ایک ایسا شخص جس نے ہجوم کو سیاسی فائدے کے لیے اپنے ہی ہزاروں شہریوں کو قتل کرنے کی اجازت دی تھی اب دنیا کی سب سے بڑی انٹیلی جنس ایجنسیوں میں سے ایک کا مکمل کنٹرولر ہے۔ الغرض مودی کی فاشسٹ سرکار ملک کے اندر تو در کنا اب امریکہ اور یورپ میں بھی اپنے مخالفین کا پیچھا کرنے میں لگی ہوئی ہے جو بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے تاہم مغربی ممالک کا دوغلاپن دیکھیں کہ وہ سفاک بھارت کے خلاف کوئی بھی اقدام اٹھانے سے گریز کر رہے ہیں ۔حال ہی میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں جی ٹونٹی کانفرنس کا انعقاد کر کے اپنی ہٹ دھرمی کا ثبوت دیا ہے کیونکہ بھارت میں مقبوضہ کشمیر ایک ایسا متنازعہ علاقہ ہے جہاں سالانہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ جنگی جرائم ہوتے ہیںتاہم اس کے باوجود عالمی برادری نے اس پر آنکھیں موندرکھی ہیں جس کی وجہ سے مودی سرکار ی کی سفاکیت میں دن بدن اضافہ ہو تا جارہا ہے جسکے آگے پل باندھنے کے لئے ضروری ہے کہ عالمی برادری ہندواتواکی علمبردار حکومت پر انسانی حقوق کے جرائم میں ملوث ہونے پر پابندیاں عائد کر ے ۔ md.daud78@gmail.com







