دنیائے سکواش پر چار دہائیوں تک حکمرانی کرنے والے نواں کلی کے سپوت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان میں سکوائش کو زندہ رکھنا ہے تو اس اس مردم خیز علاقے کو بھر توجہ دینا ہوگی جس نے ملک کو ہاشم خان ، قمر زمان ، جہانگیر خان اور جان شیر خان جیسے شہرہ آفاق کھلاڑیوں سے نواز ہے ۔ حال ہی میں نواں کلی کے حمزہ خان ورلڈ جونیئر سکوائش چمپئن شب جیت کر ورلڈ سکواش میں ملک کے لئے نئی امیدیں جگا دی ہیں کہ پاکستان بین الاقوامی سکواش میں اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔ یاد رہے کہ نوے کی دہائی کے اواخر میں جہاں جہانگیر خان اور جانشیر خان جیسے لیجنڈز کی رخصتی کے بعد سے پاکستان اس کھیل میں ایک بھولی بسری کہانی بن گیا ہے وہیں حمزہ خان نے اتوار کو میلبورن میں مصر کے محمد عاصم کو شکست دے کر ورلڈ جونیئر اسکواش چیمپئن شپ 2023 جیت کر ملک کی 26 سال پر محیط فتح کی قحط کو ختم کر دیا ہے۔ پاکستان نے آخری بار یہی ٹائٹل جان شیر خان کے ذریعے37 سال قبل 1986میں جیتا تھا اور آخری بار ملک نے بڑا ٹائٹل برٹش اوپن 1997میں جیتا تھا کامیابیون کا جو سفر جان شیر خان کے ذریعے شروع ہوا وہ کافی لمبے عرصہ تک چلا یعنی1981سے 1997تک اس کھیل میں پاکستان کی عالمی بالادستی قائم رہی جس کی سربراہی جہانگیر اور جان شیر نے کی جبکہ اس سے قبل ہاشم خان نے 1951 سے 1958 تک پاکستان کو یہ اعزاز دلایا۔یا د رہے کہ ان تمام کھلاڑیوں کا تعلق پشاور کے مردم خیز علاقے نواں کلی سے ہے اور اب جونیئر سطح پر یہ کارنامہ انجام دے کر حمزہ خان نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے ۔ اس کامیابی کو لیکر پاکستان کو اپنی سکواش بہتر نے کے لئے ایسے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، خصو صی طور پر حمزہ کے کھیل میںمزید نکھار لانے کے لئے اسے زیادہ سے زیادہ بین لاقوامی میچ کھلانے کی ضرورت ہے تاکہ اس نوجوان کو دیکھتے ہوئے مزید کھلاڑی بھی سامنے آسکیں ۔ اگر پاکستان میں اس کا کھیل کی حالت زار کا جائزہ لیا جائے تو انتہائی افسوس کیساتھ کہنا پڑ ہے کہ پاکستان کے نمبر ون کھلاڑی محمد عاصم خان کی عالمی رینکنگ 66 ہے اور انہیں اپنے پورے کیریئر میں کبھی بھی ٹاپ 50 کھلاڑوںمیں شمار نہیں کیا گیا۔ تاہم حمزہ خان کی آمد جنہوں نے دو بار ایشین جونیئر چیمپئن شپ اور ایک بار برٹش جونیئر چمپئن شپ جیت لی ہے کو قومی سکواش سرکٹ میں تازہ ہوا کا جھونکا قرار دیا جارہا ہے ۔ جہاں تک عاصم خان کا معاملہ ہے تو وہ ایک با صلاحیت کھلاڑی ہیں تاہم انہیں اسپانسرشپ کی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے وہ مزید آگے نہیں بڑھ پر پار ہے جن پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاہم حمزہ خان کا ادارہ پاکستان آرمی اسے فنڈز اور سہولیات کے حوالے سے مطلوبہ تعاون فراہم کرتا رہے گا تاکہ وہ سکواش میں ہماری کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔اس دوران اتوار کو کھیلوں کے محاذسے پاکستانیوں کے لیے ایک اور خوشخبری آئی جب کولمبو میں ایمرجنگ ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستانی شاہینوں نے بھارت اے کو 128 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دے دی۔ پاکستان کا 8 وکٹوں پر 352 رنز اور طیب طاہر کے 71 گیندوں پر 109 رنز کی مدد سے ہمارے روایتی حریفوں کی شکست کی وجہ بنا۔امید ہے کہ کھیلوں کی طرح ملک کے سیاسی حالات بھی جلد بہتر ہونا شروع ہو جائیں گے ۔اگر انتخابات بروقت ہوئے تو یہاں سے بھی جلد اچھی خبریں آنا شروع ہو جائیں گی ۔ md.daud78@gmail.com







