شعیب جمیل
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے خیبر پختون خواہ کی عدلیہ کو کرپٹ ترین قرار دینے کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست کو پشاور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کی جانب سے واپس لینے کے بنیاد پر رٹ خارج کردیا۔ گزشتہ روز جسٹس روح الامین اور جسٹس کی سر براہی میں قائم دو رکنی بنچ نے توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی۔اس موقع پر درخواست گزار وکیل شبیرحسین گیگیانی ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ اس موقع پر عدالت نے درخواست گزارسے استفسار کی کہ عدالت کو آگاہ کیا جائے کہ کہاں پر توہین ہوئی ہے۔ دلائل مکمل ہونے کے بعد درخواست گزار نے توہین عدالت درخواست واپس لی، جس کے بنا پر عدالت نے رٹ خارج کردی۔ واضح رہے کہ حال ہی میں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں خیبر پختون خواہ کی عدلیہ کو کرپٹ ترین جبکہ پنجاب پولیس کو سب سے زیادہ کرپٹ قرار دیا گیا ہے توہین عدالت کی درخواست کے مطابق یہ رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں اور اس سے اس صوبے کی پوری عدلیہ کے ساتھ ساتھ ججز کا وقار بھی مجروح ہوا ہے اس لئے یہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے درخواست کے مطابق خیبر پختون خوا کی عدلیہ کو سکینڈلائز کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو حقائق کے برعکس ہے کیونکہ اس وقت خیبر پختون خواہ کی عدلیہ مختلف امور میرٹ پر چلا رہی ہے درخواست میں یہ بھی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جو مواد شائع کیا گیا ہے اس پر فوری طور پر پابندی عائد کی جائے جبکہ ذمہ داروں کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے کہ کیوں انہوں نے ایک غلط رپورٹ شائع کی ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنشنل نے عدلیہ کی آزادی پر وار کرنے کی کوشش کی ہے جو کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں ہوتا اور عدالتوں کے فیصلے گلیوں میں زیر بحث نہیں ہوتے اس لئے حکومت ایسے اداروں کیلئے قواعد و ضوابط طے کرے اور جس نے یہ غلط رپورٹ شائع کی ہے ان کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے۔







