غزہ میں جنگ بندی کے باوجود رواں سال غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 900 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 10 اکتوبر کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے غزہ میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 1300 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں 301 بچے بھی شامل ہیں۔بی بی سی کے مطابق درجنوں ویڈیوز کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوا کہ حملوں میں ساحل سمندر کے قریب کیفے، بے گھر افراد کے پناہ لینے کے لیے لگائے گئے خیمے اور وسطی غزہ میں مبینہ جنازے کے جلوس سمیت مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینے اموات کے لحاظ سے سب سے زیادہ مہلک رہے اور اپریل سے اگست کے درمیان ہر ماہ 100 سے زائد افراد کی ہلاکت ریکارڈ کی گئی۔وزارت صحت ان اموات کی وجہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو قرار دیتی ہے، اقوام متحدہ بھی ان اعداد و شمار کو قابل اعتماد سمجھتا ہے، حماس اور اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کو قبول کرنے کے بعد جنگ روکنے پر اتفاق کیا تھا۔اس منصوبے میں تمام فوجی کارروائیاں، بشمول فضائی اور توپ خانے کی بمباری روکنے کی شق بھی شامل تھی۔دوسری جانب جنگ اور تباہی سے پہلے ہی متاثرہ غزہ کے بچوں سے اب پتنگ بازی کی خوشی بھی چھننے لگی ہے اسرائیلی دھمکیوں کے بعد والدین کو اپنے بچوں کو پتنگیں اڑانے سے روکنے کی اپیل کی گئی ہے۔غزہ میں مقامی سماجی اور فلاحی تنظیموں پر مشتمل کمیٹیوں نے والدین سے کہا ہے کہ وہ بچوں کو پتنگ اڑانے سے روکیں تاکہ کسی ممکنہ خطرے سے ان کی جانیں محفوظ رکھی جاسکیں۔یہ فیصلہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ غزہ سے اسرائیل کی جانب پتنگیں، غبارے یا ڈرون بھیجنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور متعلقہ علاقوں کو خالی کرانے کے احکامات دیے جاسکتے ہیں۔غزہ سٹی کی ایک ماں نے بتایا کہ اس کا 10 سالہ بیٹا ہر گرمیوں میں گلی کے بچوں کے ساتھ پتنگ اڑاتا تھا لیکن اب خوف کے باعث وہ اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔مقامی کمیٹیوں نے اپنے بیان میں کہا کہ بچوں کو کھیل سے روکنے کا مقصد ان کی آزادی محدود کرنا نہیں بلکہ ان معصوم جانوں کو ممکنہ خطرات سے بچانا ہے کیونکہ غزہ کے بچے پہلے ہی محفوظ زندگی اور کھیلنے کے بنیادی حق سے محروم ہوچکے ہیں۔تازہ صورتحال میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ سرحد کی جانب جانے والی پتنگیں سیکیورٹی خدشات پیدا کر رہی ہیں جبکہ حماس نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنگی کارروائیوں کے لیے نئے جواز تلاش کر رہا ہے۔غزہ کے لیے یہ صورتحال ایک اور تلخ حقیقت بن گئی ہے جہاں جنگ نے بچوں سے گھر، اسکول اور محفوظ زندگی کے بعد اب ان کی پتنگوں کی خوشی بھی چھین لی ہے۔







