خیبرپختونخوا کے اضلاع لکی مروت اور بنوں میں جاری پولیس امن کمیٹیوں کے احتجاج اور ہڑتال کے باعث اکانٹنٹ جنرل خیبرپختونخوا نے ان اضلاع کے 4 ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں روک دی ہیں۔ تنخواہیں روکے جانے کے معاملے پر امن کمیٹیوں کے ساتھ مذاکرات کرنے والے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پوری پولیس فورس کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف قرار دیا ہے۔شیر افضل مروت کے مطابق معاملہ بنوں اور لکی مروت کی پولیس امن کمیٹیوں کے تقریبا 20 سرکردہ اراکین سے متعلق تھا، تاہم اس کی آڑ میں دونوں اضلاع کے ہزاروں پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں روک دی گئیں۔انہوں نے کہا کہ چند اہلکاروں کے انتظامی یا محکمانہ معاملات کی بنیاد پر پوری پولیس فورس کو اجتماعی سزا دینا ناانصافی ہے۔شیر افضل مروت نے بتایا کہ پولیس امن کمیٹیوں نے اعلی پولیس حکام کو تحریری یقین دہانیاں کرائی ہیں کہ وہ پولیس رولز، نظم و ضبط اور قانون کی پابندی کریں گی۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ امن کمیٹیوں کے اراکین کو کم از کم 15 دن کا موقع دیا جائے اور خلاف ورزی کی صورت میں انفرادی کارروائی کی جائے۔شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ لکی مروت اور بنوں کی پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں، انہیں سزا نہیں بلکہ احترام اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔







