ورلڈ کپ میں فٹبالر ایک جیسے موزے کیوں نہیں پہنتے؟ دلچسپ وجہ سامنے آگئی

فٹبال کا میدان ہو اور نظریں صرف گیند یا گول پوسٹ پر ہوں، اب ایسا نہیں رہا۔ دنیا کے سب سے بڑے کھیل کے میدانوں میں اب شائقین کی نظریں کھلاڑیوں کے پیروں پر بھی جمی رہتی ہیں، اور اس کی وجہ کوئی جادوئی کِک نہیں بلکہ ان کے موزے ہیں۔ ورلڈ کپ کے دوران کھلاڑیوں کے جوتوں سے لے کر ان کے موزوں تک، ہر چیز میں ان کی ذاتی پسند، سٹائل اور کھیل کی کارکردگی کا ایک انوکھا تال میل نظر آتا ہے۔ مختلف ٹیموں کے کھلاڑی اپنے موزے الگ الگ انداز میں پہنتے ہیں، اور یہ فرق صرف فیشن تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے آرام، بہتر کارکردگی اور ذاتی پسند جیسے کئی عوامل بھی ہوتے ہیں۔ ٹورنامنٹ کے دوران کچھ کھلاڑی اپنے موزے گھٹنوں سے بھی اوپر تک چڑھا لیتے ہیں، جس سے ٹانگ کا کوئی حصہ نظر نہیں آتا، جبکہ کچھ کھلاڑی انہیں اتنا نیچے موڑ لیتے ہیں کہ وہ روایتی فٹبال موزوں کے بجائے عام ٹخنے تک کے موزوں جیسے دکھائی دیتے ہیں۔ جاپان کے ایک کھلاڑی نے تو اتنے چھوٹے انداز میں موزے پہنے کہ وہ پورے ٹورنامنٹ میں سب سے نمایاں مثال بن گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض کھلاڑی اپنی ٹیم کی جانب سے فراہم کیے گئے موزوں میں بھی تبدیلی کر لیتے ہیں۔ کچھ کھلاڑی موزے کے پاں والے حصے کو کاٹ دیتے ہیں اور صرف اوپری حصہ ٹانگ پر چڑھاتے ہیں، جبکہ نیچے اپنی پسند کے الگ گرپ یا اینکل موزے پہنتے ہیں۔ اس انداز میں اکثر سفید یا مختلف رنگ کے موزے ٹیم کی جرسی کے رنگوں کے ساتھ واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ ہر کھلاڑی کو منظور شدہ سرکاری کٹ اور ٹیم کے مقررہ رنگوں کا استعمال کرنا ہوتا ہے، لیکن موزوں کو پہننے اور ان میں معمولی تبدیلی کرنے کے مختلف انداز گزشتہ چند برسوں میں کافی عام ہو چکے ہیں۔ ہر ٹیم میں بھی ایک جیسا انداز نہیں ہوتا۔ کچھ ٹیموں کے زیادہ تر کھلاڑی گھٹنوں تک موزے پہننا پسند کرتے ہیں، جبکہ بعض ٹیموں میں کئی کھلاڑی موزے نیچے موڑ کر کھیلتے ہیں۔ اسی لیے میدان میں مختلف انداز ایک دلچسپ منظر پیش کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed