شیر عالم شینواری
روخان یوسفزئی ایک ایسے صحافی اور قلمکار ہیں جن کی تحریر میں خبر، تجزیہ اور ادب کا نادر امتزاج پایا جاتا ہے۔ ان کی چوتھی اردو کتاب "خیبر پختونخوا کی شخصیات — حصہ اول” ایک ایسا دستاویزی شاہکار ہے جو صوبے کی ادبی و فکری تاریخ کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔ 225 صفحات پر مشتمل یہ کتاب 33 مایہ ناز ادبی شخصیات کے گہرے انٹرویوز اور سوانحی خاکوں پر مشتمل ہے۔ یہ سلسلہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ منظرِ عام پر آ چکا ہے جبکہ دوسرا حصہ جلد شائع کیا جائے گا، جس میں صوبے کی مزید اہم اور نمایاں شخصیات شامل ہوں گی۔
خیبر پختونخوا کی سرزمین ہمیشہ سے شعر و سخن، فنون لطیفہ اور فکری بیداری کا گہوارہ رہی ہے۔ اس خطے نے ایسے سخنور اور دانشور پیدا کیے ہیں جن کی تخلیقات نے نہ صرف علاقائی بلکہ قومی اور عالمی سطح پر بھی اثر چھوڑا ہے۔ مگر بدقسمتی سے ان گراں قدر ہستیوں کے سوانحی مواد کو منظم اور دستاویزی شکل میں محفوظ کرنے کی کمی شدت سے محسوس کی جاتی رہی ہے۔ روخان یوسفزئی نے اسی خلا کو پر کرنے کی ذمہ داری اٹھائی ہے۔ ان کی یہ کاوش محض انٹرویوز کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک فکری دستاویز ہے جو صوبے کی ادبی شناخت کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کا ذریعہ بنے گی۔
روخان یوسفزئی کی تحریری اسلوب روایتی سوانح نگاری سے یکسر مختلف ہے۔ وہ خشک تاریخِ پیدائش، وفات اور فہرستِ تصانیف کی بجائے شخصیت کے اندرونی سفر، تخلیقی تنہائیوں، فکری جدوجہد اور نجی زندگی کے لمحات کو قاری کے سامنے کھولتے ہیں۔ ان کے سوالات کی گہرائی اور کاٹ اتنی شدید ہے کہ انٹرویو لینے والا شخص خود بخود اپنے دل کے پوشیدہ ترین گوشوں کو افشا کر بیٹھتا ہے۔ مکالمہ نگاری کا یہ معیار اس کتاب کو ایک نئے معیار پر کھڑا کرتا ہے۔
کتاب کی سب سے نمایاں خوبی اس کا کثیر الثقافتی اور کثیر اللسانی رنگ ہے۔ مصنف نے فصیح اردو کے ساتھ پشتو، ہندکو، کھوار اور دیگر علاقائی زبانوں کی چاشنی کو خوبصورتی سے گوندھا ہے۔ انہوں نے کسی بھی زبان یا ثقافتی آہنگ کو مجروح نہیں ہونے دیا۔ یہ طرزِ نگارش نہ صرف صوبے کے متنوع تمدنی حسن کو اجاگر کرتا ہے بلکہ روخان یوسفزئی کی وسیع المشربی، بے تعصبی اور اپنی دھرتی سے گہری وابستگی کا بھی ثبوت دیتا ہے۔
کتاب قاری کو ایک ایسی فکری دنیا میں لے جاتی ہے جہاں ہر انٹرویو علم کا نیا دریچہ کھولتا ہے۔ انٹرویوز میں تین اہم موضوعاتی دھارے نمایاں ہیں۔ پہلا دھارا تشکیلی دور اور رنجِ سفر سے متعلق ہے۔ ادیبوں کے بچپن کی نوسٹلجک یادیں، کٹھن معاشی حالات، سماجی دباؤ اور وہ تاریخی عوامل جو ان کے اندر کے فنکار کو بیدار کرتے ہیں، بڑی خوبصورتی سے بیان کیے گئے ہیں۔

دوسرا اہم دھارا فن اور مقصدیت کا ہے۔ یہاں فن برائے فن اور فن برائے زندگی کے مباحث، فنکار کی سماجی ذمہ داریاں، موجودہ دور کے اخلاقی زوال میں قلم کی طاقت اور فنکار کا کردار جیسے سوالات پر گہرے مکالمے کیے گئے ہیں۔ تیسرا دھارا ماضی کا نوحہ اور عہدِ رفتہ کی یادوں پر ہے۔ شخصیات اپنے اساتذہ، معاصرین اور گزرے ہوئے سنہرے لمحات کو یاد کرتی ہیں۔ ان یادوں کے ذریعے صوبے کی گزشتہ نصف صدی کی ادبی اور فکری تاریخ خود بخود مرتب ہو جاتی ہے۔
روخان یوسفزئی نے یہاں ایک عام رپورٹر کی بجائے ایک زیرک مورخ اور حساس ادیب کا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے زبانوں کی بقا، مادری زبانوں میں تعلیم، پبلشنگ انڈسٹری کے بحران، ڈیجیٹل دور میں کتاب کی گرتی ہوئی قدر اور تخلیقی اظہار کے نئے چیلنجز جیسے سنجیدہ موضوعات پر بہترین مکالمے تخلیق کیے ہیں۔ یہ انٹرویوز قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ آج کے پرآشوب دور میں فنکار کی ذمہ داری کیا ہے۔
اس کتاب کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ یہ صرف 33 شخصیات کے انٹرویوز کا مجموعہ نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کی ادبی شناخت کی ایک بڑی امانت ہے۔ غیر پشتون قارئین اور اردو دنیا کے دیگر حصوں کے لوگ اب اس فکری سرمائے تک براہِ راست رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ روخان یوسفزئی نے ان گم شدہ علمی خزانوں کو اردو کے پیراہن میں پیش کر کے پورے ملک پر احسان کیا ہے۔
جب دوسرا حصہ بھی شائع ہو جائے گا تو یہ سلسلہ صوبے کی ادبی تاریخ کا ایک جامع دستاویزی ریکارڈ بن جائے گا۔ آج کے ڈیجیٹل عہد میں جہاں کتاب سے رشتہ تیزی سے کمزور ہو رہا ہے، ایسی تصانیف نسلوں کو اپنی جڑوں سے جوڑنے کا کام کرتی ہیں۔ یہ کتاب جامعات کے طلباء، محققین، اساتذہ، ادیبوں اور عام قارئین کے لیے یکساں اہمیت رکھتی ہے جو خیبر پختونخوا کے فکری اور ادبی دھارے کو سمجھنا چاہتے ہیں۔
روخان یوسفزئی کی یہ کاوش ان کے غیر متزلزل فکری سفر اور ادبی لگن کا شاندار مظہر ہے۔ "خیبر پختونخوا کی شخصیات — حصہ اول” نہ صرف ایک کتاب ہے بلکہ ایک تاریخی مہم ہے۔ یہ مہم ہماری تہذیبی ورثے کو محفوظ کرنے، یادوں کو زندہ رکھنے اور آنے والی نسلوں کو اپنے بزرگوں کی فکری میراث سے روشناس کرانے کی مہم ہے۔
اس کتاب کو پڑھ کر قاری کے دل میں ایک ہی سوال پیدا ہوتا ہے: روخان یوسفزئی جیسے حساس اور محنتی قلمکاروں کی مزید ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنی ادبی تاریخ کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو ایسی دستاویزی کاوشوں کو سراہنا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔







