آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی کے قیام کا اعلان

انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز (آئی ایم سائنسز)پشاور میں صوبائی جامعات کی رینکنگ کے حوالے سے ڈیجیٹل میڈیا پرسنز کے ساتھ ایک خصوصی ڈیجیٹل میڈیا میٹ اپ اور انٹرایکٹو سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ سیشن کے دوران وزیراعلی نے مختلف قومی و صوبائی امور پر اظہار خیال کیا جبکہ ڈیجیٹل میڈیا نمائندگان کے سوالات کے تفصیلی جوابات بھی دیے۔وزیراعلی نے کہا کہ صوبائی حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ نظام کی تشکیل کے لیے خیبرپختونخوا میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس اتھارٹی قائم کر رہی ہے، جو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تحقیق، اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مہارتوں اور معیاری تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ انہیں بدلتے ہوئے عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعلی نے کہا کہ احساس نوجوان پروگرام کے تحت نوجوانوں کو بلاسود قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ کامیابی سے جاری ہے جبکہ خواتین اور مذہبی اقلیتوں کے لیے بھی خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں تاکہ وہ معاشی طور پر بااختیار بن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مالی سال امن، ترقی اور خوشحالی کا سال ثابت ہوگا اور حکومت نوجوانوں کو مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔وزیراعلی نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، اس لیے انہیں قومی ترقی میں موثر کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی بعض پالیسیوں کے باعث نوجوانوں میں مایوسی اور احساسِ محرومی پیدا ہو رہا ہے، جس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ضم شدہ اضلاع سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعلی نے کہا کہ خیبرپختونخوا، بالخصوص ضم شدہ اضلاع، کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں کی معیشت اور تجارتی سرگرمیاں سرحدی تجارت سے وابستہ ہیں، لیکن سرحدی گزرگاہوں کی بندش نے وہاں کے عوام کو شدید معاشی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔وفاقی مالی وسائل کی تقسیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی)ایوارڈ کے تحت خیبرپختونخوا کا حصہ 18 فیصد سے زائد بنتا ہے، تاہم صوبے کو صرف 14.6 فیصد وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے جائز حصے کو دیگر صوبوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے، جو صوبے کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعلی نے کہا کہ خیبرپختونخوا گزشتہ بائیس برسوں سے مختلف تجربات کا سامنا کر رہا ہے اور بدقسمتی سے اس صوبے کو ایک تجربہ گاہ بنا دیا گیا، جس کے منفی اثرات یہاں کے عوام نے برداشت کیے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed