پاکستان ہاکی فیڈریشن کا خواتین کھلاڑیوں کو آگے لانے کا فیصلہ

پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ملک میں ہاکی کے معیار کو بہتر بنانے، خواتین کھلاڑیوں کو آگے لانے، نچلی سطح (گراس روٹ) پر کھیل کے فروغ اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے ایک جامع اور توسیعی قومی ہاکی ڈیولپمنٹ روڈ میپ کا اعلان کیا ہے۔جاری اعلامیہ کے مطابق اس نئی اصلاحاتی مہم کا سب سے اہم پہلو خواتین کی ہاکی کو اعلیٰ سطح پر لانا ہے، پی ایچ ایف نے خواتین کھلاڑیوں کیلئے پہلی بار منظم ترقیاتی راستے بنانے پر خصوصی توجہ دی ہے، اب سے تمام قومی سطح کے مقابلوں میں انڈرـ16 اور انڈرـ18 کے زمرے میں مینز اور ویمنز دونوں کی کیٹیگریز کو مکمل طور پر شامل کیا جائیگا جو کہ پاکستان ہاکی کی تاریخ میں ایک سنگ میل ہے۔ مزید برآں، پی ایچ ایف خصوصی طور پر ”انڈرـ18 گرلز نیشنل ہاکی چیمپئن شپ”کا انعقاد کریگی جو مستقبل کی قومی ٹیم اور بین الاقوامی مقابلوں کے لیے ٹیلنٹ کی سلیکشن کا بنیادی ذریعہ بنے گی۔جونیئر کھلاڑیوں کو بین الاقوامی تجربہ فراہم کرنے کے لیے پی ایچ ایف عمان میں ہونے والے مقابلوں میں پاکستانی اسکواڈ بھیجے جائیں گے جس میں پاکستان انڈرـ21 جونیئر مینز ہاکی ٹیم، پاکستان انڈرـ18 بوائز ہاکی ٹیم،پاکستان انڈرـ18 گرلز ہاکی ٹیم شامل ہونگی۔یہ ٹیمیں رواں سال جولائی میں عمان میں ہونے والے بین الاقوامی ڈیولپمنٹ مقابلوں، بشمول فائیو اے سائیڈ (5ـaـside) فارمیٹس اور یوتھ لیگز میں شرکت کریں گی، جس کا مقصد ابھرتے ہوئے مرد اور خواتین کھلاڑیوں کو عالمی سطح کا تجربہ فراہم کرنا ہے۔ملک بھر کے اسکولوں اور نچلی سطح پر ہاکی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک وسیع مہم شروع کی جا رہی ہے، جس کے تحت انفراسٹرکچر کی بہتری، کوچنگ تک رسائی اور نئے ٹیلنٹ کی تلاش کے نیٹ ورک کو فعال کیا جائے گا۔ تاکہ تمام علاقوں کے لڑکوں اور لڑکیوں کو یکساں مواقع فراہم کر کے اسکول سے قومی سطح تک کھلاڑیوں کی فراہمی کا ایک پائیدار سلسلہ قائم کیا جائے اس حوالے سے ایک ہزار سے زائد اسکولوں میں ہاکی کٹس مرحلہ وار تقسیم کی جائیں گی۔ جبکہ کوچز کو تیار کرنے کیلئے باقاعدہ پی ایچ ایف کوچنگ ایجوکیشن پروگرام کے تحت کوچنگ دی جائے گی۔ تاکہ یہ کوچ گراس روٹ میں نئے کھلاڑی بنا سکیں۔پی ایچ ایف نے سینئر قومی ہاکی ٹیم کے لیے میچ بہ میچ کارکردگی کا جائزہ لینے کا ایک جدید نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، یہ سلسلہ ایف آئی ایچ پرو لیگ کے پہلے دن سے شروع ہو کر تمام بڑے عالمی مقابلوں بشمول ہاکی ورلڈ کپ، ایشین گیمز اور دیگر عالمی ٹورنامنٹس تک جاری رہے گا، کارکردگی کا یہ جائزہ ماضی کے برعکس فوری اور لائیو ہوگا۔ ٹیم سلیکشن، حکمتِ عملی اور کھلاڑیوں کے استعمال کا تعین میچ کی کارکردگی کا ڈیٹا کوچز کی جانب سے تکنیکی فیڈ بیک،آزاد میچ مبصرین کی آرائ، پروفیشنل ڈیولپمنٹ کمیٹی کی تجاویز پر مبنی ہوگا۔اس طریقہ کار سے کارکردگی کا احتساب شواہد کی بنیاد پر ہوگا، جس سے ٹیم میں بروقت تبدیلیاں اور حکمتِ عملی میں بہتری لانا ممکن ہو سکے گا۔قومی ہاکی پروگراموں (سینیئر، جونیئر اور خواتین ہاکی) کو جدید ترین پرفارمنس ٹیکنالوجی، اینالیٹکس سسٹم اور خصوصی سپورٹ یونٹس سے لیس کیا جائے گا تاکہ کھلاڑیوں کی تکنیکی، جسمانی اور حکمتِ عملی کی کمزوریوں کو دور کیا جا سکے۔ فیڈریشن کوچنگ کے طریقوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔مینجمنٹ، کوچنگ اسٹاف اور انتظامی ڈھانچے سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی کارکردگی جانچنے کے لیے سہ ماہی (Quarterly) جائزہ نظام نافذ رہے گا۔ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے پی ایچ ایف کے صدر اور سینئر قیادت کو بھی اس احتسابی دائرے میں شامل کیا گیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری اصلاحی اقدامات کیے جا سکیں۔وڈ میپ کے حتمی مرحلے کے طور پر، پی ایچ ایف ایک عالمی معیار کے فٹنس اور ہائی پرفارمنس کوچ کی تعیناتی کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مشاورت کے آخری مراحل میں ہے۔ یہ ماہر سینیئر قومی ٹیم کے لیے جدید سائنسی فٹنس فریم ورک تیار کرے گا تاکہ پاکستانی ہاکی کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالا جا سکے۔پاکستان ہاکی فیڈریشن کا یہ جامع اصلاحاتی ایجنڈا کھیل کی بحالی، شفافیت، احتساب اور طویل مدتی کامیابی کو یقینی بنانے کے پختہ عزم کا عکاس ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed