امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دبائو میں مزید شدت لانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہاہے کہ اسرائیل کے ایران پر حملے سست نہیں ہوں گے، دو دن میں سب پتا چل جائے گا، ایران کے جوہری پروگرام کا حقیقی خاتمہ چاہتے ہیں ،وٹکوف یا جے ڈی وینس کو ایران بات چیت کے لیے بھیج سکتے ہیں۔ غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو او رسوشل میڈیا پر پیغامات جاری کرتے ہوئے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے سست نہیں ہوں گے۔ آپ کو اگلے دو دنوں میں سب پتہ چل جائے گا۔ کسی نے ابھی تک سست روی نہیں دکھائی۔ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ اگر ایران نے امریکی مفادات کو نشانہ بنایا تو ہم بہت سخت جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران مذاکرات کی میز پر واپس آیا تو وہ وٹکوف یا جے ڈی وینس کو ایران بات چیت کے لیے بھیج سکتے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے خلاف حملوں میں روس اور شمالی کوریا کے ایران کو مدد فراہم کرنے کے شواہد ملے ہیں۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے بالکل قریب ہے، ایران کے جوہری پروگرام مسئلے کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران رضاکارانہ طور پر اپنے جوہری توانائی پروگرام سے دستبردار ہو جائے۔قبل ازیں کینیڈا میں جاری جی سیون اجلاس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ روس کو جی 8 سے باہر کرنا غلطی تھی اور اگر چین بھی جی7 میں شامل ہوجائے تو برا نہیں لگے گا۔ روس جی سیون ممالک کے فورم میں 1998 میں شامل ہوا تھا اور روس کے شامل ہونے کے بعد جی 7 جی 8 فورم بن گیا تھا۔کرائمیا کے روس سے الحاق پر 2014میں روس کو جی 8سے نکال دیا گیا تھا۔ دوسری جانب چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو جلتی پر تیل قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملوں سے جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہوسکتا ہے۔چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دھمکیوں سے مشرق وسطی میں امن قائم نہیں ہوسکتا اور صورتحال کو پرسکون بنانے کے لیے سفارتی راستہ ہی واحد حل ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ بیجنگ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے پر آمادہ ہے۔







