شمالی یوکرین کے چرنی ہیو علاقے میں واقع شہر پریلوکی پر روسی میزائل حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 22 ہوگئی، جن میں 5 بچے بھی شامل ہیں۔
چرنی ہیو کے گورنر ویاچسلاو چاؤس نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں بتایا کہ پریلوکی میں مجموعی طور پر 22 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ان کے مطابق 4 افراد کی موت جائے حادثہ پر ہوئی جبکہ ایک بچہ اسپتال میں دم توڑ گیا۔
گورنر کے مطابق بدھ کی سہ پہر ہونے والے حملے میں علاقائی دارالحکومت چرنی ہیو کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں ایک تین منزلہ عمارت میں آگ بھڑک اٹھی۔ بعد ازاں فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پالیا۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ پریلوکی میں ایک رہائشی عمارت کو K-101 میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔
زیلنسکی نے مزید کہا کہ یوکرین کو فضائی دفاعی میزائلوں کے اضافی پیکجز درکار ہیں کیونکہ ملک کو روزانہ حملوں کے خطرے کا سامنا ہے اور فضائی دفاعی نظام کو مسلسل میزائلوں سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے۔
یوکرینی صدر نے کہا کہ وہ اپنے شراکت داروں کی جانب سے مطلوبہ پیداوار اور فوری ترسیل پر انحصار کر رہے ہیں۔







