چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی کے پی سہیل آفریدی نے حلف اٹھایا کہ دہشتگردوں کا مقابلہ نہیں کروں گا، اگر وہ دہشتگردوں کا مقابلہ کرنے کو تیار نہیں تو پیپلز پارٹی کرے گی۔ اپوزیشن دہشتگردی کے خلاف وفاقی حکومت کے ساتھ ہے تو ایمرجنسی ختم ہو سکتی ہے۔سانحہ کارساز کو 19 سال مکمل ہونے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ دہشتگردی کا بہادری سے سامنا کیا، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہر طبقے کے لوگ شہید ہوئے، ملک کی سلامتی کیلیے ہماری بہادر افواج قربانیاں دے رہی ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سہیل آفریدی دہشتگردی کے خلاف جنگ کیلیے تیار نہیں تھے، یہ ہی وجہ تھی کہ ہم نے حکومت کے ایک فیصلے کا ساتھ دیا، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور دہشتگردوں کا خاتمہ کیا جائے گا، ملک کو دہشتگردوں سے پاک کر کے رہیں گے، دہشتگردی کے خلاف جنگ متحد ہو کر لڑیں گے، جب تک ایک ہو کر دہشتگردی کا مقابلہ نہیں کریں گے کامیاب نہیں ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں تاریخی معاشی بحران ہے، ایسا لگ رہا ہے حالات بہتر نہیں مزید خراب ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام میں بہتری کی ضرورت ہوتی ہے، انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمنٹ میں کمیٹی بنانے کی تجویز دی، اپوزیشن چاہتی ہے کہ گورنر راج ختم ہو تو مل کر دہشتگردی کا مقابلہ کرنا ہوگا، اپوزیشن دہشتگردی کے خلاف وفاقی حکومت کے ساتھ ہے تو ایمرجنسی ختم ہو سکتی ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ اپوزیشن گورنر راج یا ایمرجنسی کا خاتمہ چاہتی ہے تو آئے وفاقی حکومت کے ساتھ بات چیت کرے، انتخابی اصلاحات کمیٹی میں اپوزیشن کو شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں، محسن نقوی نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس پر پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری کی پالیسی جانتے ہیں، آئینی و قانونی طریقے سے صوبے بن سکتے ہیں، جہاں اتفاق رائے موجود ہو وہاں صوبے کیوں نہیں بنائے جا رہے۔







