عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے این پی غیرجمہوری اقدام کی حمایت نہیں کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے مسائل کا حل غیر معمولی انتظامی اقدامات یا جمہوری نظام کو معطل کرنے میں نہیں، بلکہ آئین کی بالادستی، پارلیمانی جمہوریت، صوبائی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ کے احترام میں ہے، اے این پی کسی غیرجمہوری اقدام کی حمایت نہیں کرے گی۔ میاں افتخار نے کہا کہ اے این پی پہلے بھی ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے اپنا اصولی مقف واضح کر چکی ہے اور آج بھی اسی پر قائم ہے، کیونکہ یہ مسائِل کا حل نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام کے لیے ایسے اقدامات تشویش ناک ہیں جو عوام کے حق حکمرانی اور جمہوری اداروں کو کمزور کریں۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی ماضی میں بھی غیر جمہوری اقدامات کے خلاف کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی جمہوری اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔صوبائی صدر اے این پی نے کہا کہ خیبر پختونخوا گزشتہ کئی برسوں سے بدامنی، دہشت گردی، معاشی مشکلات اور انتظامی مسائل کا سامنا کر رہا ہے، ایسے حالات میں صوبے کے عوام کو امن، تحفظ، روزگار، تعلیم اور صحت کی سہولیات کے ساتھ اپنے وسائل پر آئینی حق بھی ملنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر امن و امان کی صورت حال تشویش ناک ہے تو تمام متعلقہ اداروں کو اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہییں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے واضح اور مثر حکمت عملی اپنانے کے ساتھ عوام کو بھی اعتماد میں لینا ضروری ہے۔میاں افتخار کے مطابق محض انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی سے دیرپا امن کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کسی سیاسی جماعت کی حکومت یا مخالفت کی بنیاد پر اپنے اصول تبدیل نہیں کرتی، ان کے مطابق اے این پی کی سیاست کا محور جمہوریت، عدم تشدد، قومی حقوق، صوبائی خودمختاری اور عوام کے حق حکمرانی کا تحفظ ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کو نئی سیاسی کشمکش اور غیر یقینی صورت حال کے بجائے امن، استحکام، جمہوری حقوق اور اپنے وسائل پر اختیار کی ضرورت ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی صوبے کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا آئینی، جمہوری اور سیاسی کردار ادا کرتی رہے گی۔ان کے مطابق خیبر پختونخوا کے مسائل کا حل سیاسی محاذ آرائی بڑھانے کے بجائے جمہوری اصولوں کی پاسداری، آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں ہے۔







