معظم لاء فرم اکیڈیمیا کے زیرِ اہتمام قانونی تحقیق کا طریقہ کار(Legal Research Methodology) کے عنوان سے دو روزہ عملی تربیتی ورکشاپ اختتام پذیر ہوگئی۔ورکشاپ میں مختلف لاء کالجز سے تعلق رکھنے والے فائنل ایئر کے 17 طلبہ و طالبات نے شرکت کی، جنہیں قانونی تحقیق کا طریقہ کار کے حوالے سے تفصیلی عملی تربیت اور آگاہی فراہم کی گئی۔ورکشاپ کا مقصد نوجوان وکلا کو کتابی علم کے ساتھ ساتھ عملی عدالتی امور، قانونی طریقہ کار اور مقدمات کی مثر پیروی کے جدید طریقوں سے روشناس کرانا تھا۔ ورکشاپ کے موقع پر معظم لا فرم کے سربراہ معظم بٹ ایڈووکیٹ بھی موجود تھے، جبکہ دو روزہ تربیتی پروگرام کی نگرانی بسام احمد صدیقی ایڈووکیٹ نے کی۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی معظم لاء فرم اکیڈیمیا فوجداری مقدمات کے حوالے سے دورہ ورکشاپ بھی منعقد کراچکے ہیں جبکہ آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

اس موقع پر نوجوان وکلا نے ورکشاپ کو انتہائی مفید اور خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی عملی تربیت سے ان کے علم اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے وکلا کے لیے کتابی علم کے ساتھ عملی تربیت بھی انتہائی ضروری ہے۔نوجوان وکلا نے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کی مزید ورکشاپس منعقد کی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ وکلا جدید قانونی طریقہ کار سے مستفید ہوسکیں۔معظم لاء فرم کے سربراہ معظم بٹ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان کاکہناتھاکہ ان کی خواہش ہے کہ قانون سے وابستہ نوجوانوں کی درست اور صحیح معنوں میں عملی تربیت کیجائے تاکہ آنے والے نئے وکلاء کو عملی طور پر بھی قانون سے آگاہ کیاجائے ، جس کیلئے انھوںنے اس کا آغاز کیاہے ، آخر میں شرکاء میں اسناد بھی تقسیم کی گئی







