کائناتی ذرات پر تحقیق کرنے والے سائنسدان نے فزکس کا نوبیل انعام حاصل کر لیا

سوئیڈن کی رائل اکیڈمی آف سائنسز نے سال 2026 کے لیے فزکس (طبیعیات) کا نوبیل انعام بیلجیئم سے تعلق رکھنے والے ممتاز سائنسدان فرانسس ہالزین کو دینے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ انہیں یہ عالمی اعزاز خلا میں موجود کائناتی ذرات کی شناخـت اور ہائی انرجی نیوٹرونز کی دریافت سے متعلق پیش رفت پر دیا گیا ہے۔ نوبیل کمیٹی نے ان کی کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی تحقیق نے فلکی طبیعیات میں نئے راستے کھولے ہیں۔

فرانسس ہالزین نے 1988 میں یہ انوکھا خیال پیش کیا تھا کہ قطب جنوبی کی برفیلی سطح کو استعمال کرتے ہوئے خلا میں موجود نادیدہ ذرات کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ ان کا یہی تصور بعد میں انٹارکٹیکا میں آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری کے قیام کی بنیاد بنا، جہاں برف کے نیچے حساس سنسرز نصب کر کے تحقیق شروع کی گئی۔ فرانسس ہالزین اس وقت امریکہ کی وسکونسن میڈیسن یونیورسٹی میں بطور پروفیسر خدمات انجام دے رہے ہیں اور انسٹیٹیوٹ فار ایلیمنٹری پارٹیکل فزکس کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 5 اکتوبر کو طب کا نوبیل انعام دماغ کے پراسرار نظام پر کام کرنے والے تین ماہرین کو دیا گیا تھا۔ مزید برآں، کیمسٹری کے نوبیل انعام کا اعلان 7 اکتوبر اور ادب کا 8 اکتوبر کو کیا جائے گا۔ امن کے نوبیل انعام کے لیے 9 اکتوبر جبکہ اقتصادیات کے انعام کے لیے 12 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed