چارسدہ میں ڈبل شفٹ سکول پروگرام پر مالی سال 2021-22 اور 2022-23 کے دوران 13 کروڑ 4 لاکھ 70 ہزار روپے خرچ کرنے کے باوجود 40 ڈبل شفٹ اسکول کم یا صفر داخلوں کے باعث بالآخر بند کردیئے گئے، جبکہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی کارکردگی آڈٹ رپورٹ میں پروگرام کی منصوبہ بندی، اسکولوں کے انتخاب، اساتذہ کی بھرتی، نگرانی اور مالی معاملات میں سنگین بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔رپورٹ میں گھوسٹ طلبہ کے داخلوں کا بھی انکشاف ہوا ، ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذرائع کے مطابق آڈٹ رپورٹ کو پی اے سی میں بحث کے لئے پیش کیا جائے گا اور ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے گی ۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت نے ڈبل شفٹ اسکول پروگرام کا آغاز 2021-22 کے تعلیمی سیشن میں کیا۔ ابتدا میں صوبے کے 16 اضلاع کے 120 سرکاری اسکولوں کو پروگرام میں شامل کیا گیا، بعدازاں اس کا دائرہ 27 اضلاع کے 1505 اسکولوں تک بڑھا دیا گیا، جن میں چارسدہ کے 106 اسکول، 64 گرلز اور 42 بوائز اسکول شامل تھے۔رپورٹ کے مطابق محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا نے 2021-22 اور 2022-23 کے دوران 27 اضلاع کو ڈبل شفٹ اسکولوں کے اساتذہ کے وظائف کی مد میں مجموعی طور پر ایک ارب 33 کروڑ 47 لاکھ روپے جاری کیے، جن میں چارسدہ کے لیے 13 کروڑ 4 لاکھ 70 ہزار روپے شامل تھے۔







