
تحریر: حمید مروت
ہمارے بچپن کی دنیا میں کچھ پرندے ایسے تھے جو ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ محسوس ہوتے تھے۔ ان میں ایک ننھی سی، چنچل اور ہر وقت پھدکنے والی چڑیا بھی تھی جسے ہم لکی مروت میں مرغئی کہتے ہیں۔لکی مروت میں مرغئی کا ایک اور مقامی نام چرچنڑہ بھی ہے۔ خاص طور پر نر کو چرچنڑ کہا جاتا ہے۔ گھروں کی چھتوں، دیواروں، درختوں اور صحنوں میں اس کی چہچہاہٹ اتنی عام تھی کہ کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ ایک دن اس معمولی سی دکھائی دینے والی چڑیا کی تعداد بھی کم محسوس ہونے لگے گی۔یہی ہماری مرغئی دراصل House Sparrow Passer domesticus ہے، جو دنیا کے ان پرندوں میں شمار ہوتی ہے جنہوں نے انسان کے ساتھ رہنا سیکھ لیا ہے۔ یہ یورپ، ایشیا اور شمالی افریقہ کے بڑے حصے کی مقامی پرندہ ہے، جبکہ انسانوں کے ذریعے دنیا کے کئی دوسرے خطوں تک بھی پہنچ چکی ہے۔ اسی وجہ سے اسے دنیا کے سب سے وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے جنگلی پرندوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر اس کی تحفظاتی حیثیت ابھی Least Concern ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر علاقے میں اس کی تعداد مستحکم ہے۔ کئی خطوں میں اس کی آبادی میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
مرغئی کی پہچان
مرغئی ایک چھوٹا سا پرندہ ہے، عموما تقریبا 1416 سینٹی میٹر لمبا اور 2440 گرام کے قریب وزنی ہوتا ہے۔ نر اور مادہ میں واضح فرق ہوتا ہے۔ نر کے سر پر سرمئی رنگ، پشت پر بھورا اور سینے اور گلے پر نمایاں سیاہ رنگ ہوتا ہے، جبکہ مادہ نسبتا سادہ بھورے اور خاکستری رنگ کی ہوتی ہے۔یہ بنیادی طور پر بیج، اناج، گھاس اور مختلف جنگلی پودوں کے بیج کھاتی ہے، لیکن اس کی خوراک صرف پودوں تک محدود نہیں۔ کیڑے مکوڑے اور ان کے لاروے بھی اس کی خوراک کا اہم حصہ ہیں، خصوصا بچوں کو خوراک فراہم کرتے وقت۔ انسانی آبادیوں میں یہ گھروں، دکانوں، گوداموں، مویشی خانوں اور پرندوں کو دانہ ڈالنے والی جگہوں سے بھی خوراک حاصل کرتی ہے۔
دنیا بھر میں انسان کی ساتھی
مرغئی کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ انسان کے ساتھ اس کا غیر معمولی تعلق ہے۔ جہاں انسان نے گھر بنائے، اناج اگایا اور خوراک کا ذخیرہ کیا، وہاں اکثر مرغئی نے بھی اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔یہ گھنے جنگلات یا انتہائی خشک اور دور افتادہ صحراں کے بجائے عموما انسانی آبادی، کھیتوں، باغات اور دیہات کے قریب رہنا پسند کرتی ہے۔ حتی کہ بعض جگہوں پر یہ عمارتوں کے اندر، گوداموں اور دوسری تعمیرات میں بھی گھونسلے بنا لیتی ہے۔اس کا گھونسلا بھی اس کی سادگی کی طرح دلچسپ ہے۔ خشک گھاس، تنکے، جڑیں، پر، کاغذ، دھاگے اور نرم مواد اکٹھا کرکے یہ عمارتوں کی درزوں، چھتوں کے نیچے، سوراخوں اور درختوں کی مناسب جگہوں میں گھونسلا بنا لیتی ہے۔ عموما یہ تنہا نہیں بلکہ دوسرے جوڑوں کے قریب رہ کر افزائش کرتی ہے۔
پاکستان میں مرغئی
پاکستان میں House Sparrow ایک معروف اور وسیع پیمانے پر پائی جانے والی پرندہ ہے۔ پاکستانی پرندوں کی فہرستوں میں اس کے علاوہ Sind Sparrow (Passer pyrrhonotus)، Eurasian Tree Sparrow (Passer montanus)، Russet Sparrow (Passer rutilans) اور بعض دیگر متعلقہ انواع بھی درج ہیں۔خیبر پختونخوا کے سرکاری جنگلی حیات کے قانون میں بھی House Sparrow (Passer domesticus) کا باقاعدہ ذکر موجود ہے۔
لکی مروت کی مرغئی ہماری مرغئی

لکی مروت میں ہمارے لیے یہ صرف House Sparrow نہیں بلکہ ہماری اپنی مرغئی ہے۔بچپن میں یہ تقریبا ہر گھر کے آس پاس نظر آتی تھی۔ درختوں کی شاخوں پر بیٹھتی، گھروں کی چھتوں اور دیواروں پر پھدکتی، صحن میں گرے ہوئے دانے چگتی اور صبح سے شام تک اپنی مخصوص چہچہاہٹ سے ماحول کو زندہ رکھتی۔ہم بچے بھی اس سے کم دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ہم اسے پکڑنے کے لیے مختلف قسم کے چھوٹے پھندے لگاتے، کبھی دانے کا لالچ دیتے اور کبھی کمرے میں داخل کرکے دروازے بند کر کے اسے پکڑنے کی کوشش کرتے۔ اس زمانے میں ہمیں نہ پرندوں کی آبادی کا علم تھا اور نہ حیاتیاتی تنوع کی اہمیت کا۔ ہمارے لیے یہ محض بچپن کا ایک کھیل تھا۔دیہات میں مرغئی کا ایک روایتی استعمال یہ بھی تھا کہ اسے Sparrowhawk، جسے مقامی طور پر سالوگئی کہا جاتا تھا، کو پکڑنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ بچپن میں ہم مرغئی کو پھندے کے قریب باندھتے اور اس کی طرف متوجہ ہونے والے سالوگئی کو پکڑنے کی کوشش کرتے تھے۔ یہ بھی ہمارے دیہی بچپن کی ایک یادگار روایت تھی۔
لیکن وقت کے ساتھ منظر بدل گیا۔
کبھی فصلوں کی مصیبت، آج کمی کا احساس،
لکی مروت میں ایک زمانے میں مرغئی کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ اسے بعض فصلوں، خصوصا باجرے اور دیگر گرمائی فصلوں کے لیے نقصان دہ پرندہ سمجھا جاتا تھا۔ جھنڈ کی صورت میں کھیتوں میں اترنا اور پکے ہوئے دانوں کو چگنا کسانوں کے لیے واقعی پریشانی کا باعث بنتا تھا۔دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی House Sparrow کو کبھی زرعی نقصان سمجھ کر بڑے پیمانے پر اس کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ یورپ میں ایک وقت میں اسے مارنے، گھونسلے اور انڈے تلف کرنے اور مختلف طریقوں سے اس کی تعداد کم کرنے کی کوششیں کی گئیں، لیکن بڑے پیمانے پر اس نوع کی آبادی کو کنٹرول کرنے کی کوششیں کامیاب ثابت نہیں ہوئیں۔
چین میں مرغئی/چڑیا کے خاتمے کی ایک سبق آموز کہانی
مرغئی کو صرف فصلوں کا نقصان دہ پرندہ سمجھنے کی ایک مشہور تاریخی مثال چین میں ملتی ہے۔ 1958 میں ما زے تنگ کے دور میں شروع ہونے والی Four Pests Campaign میں چوہے، مکھیاں، مچھر اور چڑیا شامل تھیں۔ مرغئی کو اس لیے ختم کرنے کی مہم چلائی گئی کہ اسے فصلوں، خصوصا اناج، کے بیج کھانے والا پرندہ سمجھا جاتا تھا۔ لاکھوں لوگوں، حتی کہ اسکول کے بچوں کو بھی اس مہم میں شامل کیا گیا، اور پرندوں کو شور مچا کر گھونسلوں سے نکلنے پر مجبور کیا گیا، گھونسلے تباہ کیے گئے اور بڑی تعداد میں چڑیا ہلاک کی گئیں۔ لیکن جلد ہی ایک اہم ماحولیاتی حقیقت سامنے آئی: مرغئی صرف دانہ نہیں کھاتی بلکہ اپنے بچوں کو کیڑے مکوڑے اور ان کے لاروے بھی کھلاتی ہے۔ چڑیا کی تعداد بہت کم ہونے کے بعد فصلوں پر نقصان دہ کیڑوں کا دبا بڑھا اور زرعی پیداوار متاثر ہوئی۔ 1960 میں چینی حکام نے چڑیا کو چار نقصان دہ جانداروں کی فہرست سے نکال دیا۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قدرت میں کسی جاندار کو صرف اس بنیاد پر نقصان دہ قرار دینا کہ وہ انسان کی نظر میں ایک چیز کھاتا ہے، درست نہیں۔ ہر جاندار ماحولیاتی نظام کی ایک زنجیر کا حصہ ہے۔ قدرت کا ایک دلچسپ سبق یہ ہے کہ جو پرندہ کبھی بہت زیادہ سمجھا جاتا تھا، اس کی کمی بھی ایک دن محسوس ہونے لگتی ہے۔لکی مروت میں میرے اپنے مشاہدے کے مطابق مرغئی کی تعداد میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران کمی محسوس ہوتی ہے۔ اس کی وجوہ میں درختوں کی کمی، باجرے اور دیگر روایتی گرمائی فصلوں کے رقبے میں کمی، شوقیہ شکار، اور کووں کی بڑھتی ہوئی تعداد جیسے عوامل شامل ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے مقامی سطح پر ہر عامل کے نسبتی اثرات جاننے کے لیے باقاعدہ سائنسی مطالعے کی ضرورت ہے، لیکن روزمرہ مشاہدے میں تبدیلی واضح محسوس ہوتی ہے۔

مرغئی کے فوائد
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ Dera Ismail Khan اور Bannu divisions میں جنگلی پرندوں کی تجارت کے ایک مطالعے میں House Sparrow کے مقامی طور پر پکڑے اور فروخت کیے جانے کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔
مرغئی صرف دانہ چگنے والی چڑیا نہیں
مرغئی کو صرف اس وجہ سے فصلوں کا دشمن سمجھنا درست نہیں کہ یہ اناج کھاتی ہے۔یہ ایک omnivorous پرندہ ہے۔ بیجوں اور اناج کے ساتھ یہ کیڑے مکوڑے اور ان کے لاروے بھی کھاتی ہے۔ خاص طور پر بچوں کی پرورش کے دوران کیڑے اس کی خوراک میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس طرح یہ قدرتی غذائی زنجیر کا ایک حصہ ہے اور انسانی آبادیوں کے قریب موجود کیڑوں کی تعداد کو بھی کسی حد تک متاثر کرتی ہے۔اس کے علاوہ مرغئی خود بھی شکاری پرندوں اور دوسرے جانوروں کے لیے خوراک کا حصہ بنتی ہے۔ یوں ایک بظاہر معمولی سی چڑیا بھی مقامی ماحولیاتی نظام میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔
دنیا میں کمی کی ایک بڑی کہانی
House Sparrow آج بھی دنیا کے وسیع ترین پھیلا رکھنے والے پرندوں میں شامل ہے اور عالمی سطح پر Least Concern ہے، لیکن بعض علاقوں میں اس کی کمی بہت نمایاں رہی ہے۔مثلا یورپ میں 1980 کے بعد House Sparrow کی تعداد میں تقریبا نصف کمی رپورٹ ہوئی، جسے زرعی نظام میں تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں میں خوراک کی کمی اور دوسرے ماحولیاتی عوامل سے جوڑا گیا ہے۔برطانیہ میں بھی اس کی آبادی میں طویل مدتی کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔ اس کے باوجود دنیا کے کئی حصوں میں یہ اب بھی عام اور کامیاب پرندہ ہے۔
یہ تضاد ہمارے لیے ایک اہم سبق رکھتا ہے:
کسی نوع کا عالمی سطح پر عام ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ ہمارے اپنے گاں، شہر یا علاقے میں بھی ہمیشہ عام رہے گی۔

ہمارے درخت اور مرغئی
لکی مروت جیسے نسبتا گرم اور خشک علاقے میں درخت صرف سایہ، لکڑی، پھل یا خوبصورتی کے لیے اہم نہیں۔ یہی درخت بے شمار پرندوں اور دوسرے جانداروں کو خوراک، پناہ، افزائش اور آرام کی جگہ فراہم کرتے ہیں۔مرغئی انسانی آبادی کے قریب رہتی ہے، مگر اسے بھی اپنے گرد ایک مناسب ماحول چاہییدرخت، جھاڑیاں، گھاس، اناج، کیڑے مکوڑے، پانی اور گھونسلے کے لیے محفوظ جگہیں۔
جب ہم پرانے درخت کاٹ دیتے ہیں، مقامی فصلوں کا تنوع کم کرتے ہیں، گھونسلے بنانے کی جگہیں ختم کرتے ہیں اور ہر چھوٹے پرندے کو محض نقصان دہ سمجھ لیتے ہیں تو دراصل ہم اپنے اردگرد کے ایک پورے ماحولیاتی نظام کو آہستہ آہستہ تبدیل کر رہے ہوتے ہیں۔
بچپن کی مرغئی سے آج کی مرغئی تک
آج جب کبھی مرغئی کی چہچہاہٹ سنائی دیتی ہے تو مجھے اپنا بچپن یاد آتا ہیوہ کچے پکے گھر، صحن، درخت، اناج کے ڈھیر، باجرے کے کھیت اور ہماری اپنی بنائی ہوئی چھوٹی چھوٹی چڑیا پکڑنے کی تدبیریں۔
اس وقت ہم اسے پکڑنے کی کوشش کرتے تھے۔
آج دل چاہتا ہے کہ اسے محفوظ دیکھیں۔
شاید یہی وقت کے ساتھ انسان کی سمجھ میں آنے والی قدرت کی ایک خوبصورت بات ہے کہ جن جانداروں کو ہم کبھی معمولی سمجھتے تھے، وہی ہماری یادوں، ہماری ثقافت اور ہمارے مقامی ماحولیاتی نظام کا قیمتی حصہ ہوتے ہیں۔ مرغئی ہمارے گھروں کی پرانی ساتھی ہے۔ اسے زندہ رکھنے کے لیے شاید ہمیں کسی بڑے منصوبے سے زیادہ اپنے اردگرد کے درخت، جھاڑیاں، مقامی فصلیں، پانی اور گھونسلے کی جگہیں محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ اور اگر اگلی نسل بھی لکی مروت کے کسی گھر کے صحن میں کھڑی ہو کر یہی کہہ سکے دیکھو، مرغئی آگئی ہے!تو سمجھیں ہمارے بچپن کی ایک چھوٹی سی دنیا ابھی باقی ہے۔
(فیچر نگار سابق چیف انوائرنمنٹ، پلاننگ کمیشن آف پاکستان اور موجودہ
ایڈوائزر بایو Biodiversity
ڈائیورسٹی، داسو ڈیم، کوہستان میں تعینات ہیں)







