امتیاز علی نارنجا
پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ریٹائرڈ ملازمین پر ٹوٹنے والی قیامت تھمنے کا نام نہیں لے رہی اور پینشن کی مسلسل بندش نے بزرگ ملازمین کو شدید ترین جسمانی اور طبی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ ایکشن کمیٹی ریٹائرڈ پینشنرز اسلام آباد کو موصول ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، بدترین مالی تنگی اور ذہنی اضطراب کے باعث مزید دو بزرگ پینشنرز شدید طبی ایمرجنسی کا شکار ہو گئے ہیں، جس نے اس انسانی المیے کو مزید ہولناک بنا دیا ہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق، ادارے کے ریٹائرڈ نائب قاصد عبدالرحمن صاحب پینشن کی عدم ادائیگی اور شدید ذہنی دبا کے باعث اچانک دل کے دورے کا شکار ہو گئے ہیں، جنہیں راولاکوٹ، آزاد کشمیر کے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

دوسری جانب ایک اور بزرگ پینشنر کبیر ستی ایک حالیہ حادثے میں شدید زخمی ہو گئے ہیں جس کے باعث ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی ہے، تاہم پینشن کی بندش کی وجہ سے وہ اپنے علاج معالجے اور ادویات کے لیے شدید مالی مشکلات اور کسمپرسی کا شکار ہو چکے ہیں۔کمیٹی نے دلی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں پہلے ہی دو بزرگ ملازمین فالج کے حملے کے باعث بسترِ مرگ پر پڑے ہیں، وہیں فنڈز کا رخ موڑنے کی تادیبی کارروائیوں اور بیوروکریسی کی ہٹ دھرمی نے مزید دو معزز سفید پوش بزرگوں کو ہسپتال پہنچا دیا ہے۔ اگر موجودہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ سے پینشنرز کے تین ماہ کے بقایاجات فوری بحال نہ کیے گئے، تو روزانہ کی بنیاد پر گرتی ہوئی یہ لاشیں اور پینشنرز کا خون براہِ راست متعلقہ وزارت اور دہرے عہدوں پر براجمان اعلی بیوروکریٹس کے سر ہوگا۔ایکشن کمیٹی اور تمام پینشنرز نے عوام، میڈیا اور تمام اسٹاف ممبران سے محترم عبدالرحمن صاحب کی جلد و مکمل صحت یابی اور کبیر ستی صاحب کی پریشانیوں کے خاتمے کے لیے خصوصی دعاں کی اپیل کی ہے، اور وفاقی حکومت کو وارننگ دی ہے کہ پینشنرز کو مزید لاشیں اٹھانے پر مجبور نہ کیا جائے اور ان کا آئینی حق فورا واگزار کیا جائے۔







