ڈائریکٹر جنرل لاء کی تقرری کےخلاف دائر رٹ پٹیشن خارج کردی گئی

پشاور ہائیکورٹ نے ڈائریکٹر جنرل لاء کی تقرری کیخلاف سابق ملازمین کی دائر رٹ پٹیشن خارج کردی ہے جبکہ کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔‏ جسٹس اعجاز انور اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دورکنی بنچ نے ڈائریکٹر جنرل لاء کے سابق ملازمین حیاء خان اور دیگر کی رٹ پٹیشن پر سماعت کی جس میں ڈائریکٹر جنرل لاء غلام علی کی تقرری کو چیلنج کیا گیا تھا۔‏ دوران سماعت ڈائریکٹر جنرل لاء غلام علی کے وکیل علی گوہردرانی نے بتایاکہ درخواست گزار2023 سے ڈائریکٹر جنرل لاء کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔‏ انہوں نے پشاور ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں درخواست گزاروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئےان ملازمین کو ملازمت سے برخاست کیاجس پر انہوں نے ڈائریکٹر کی تعیناتی کو چیلنج کیاہے۔‏ انہوں نے بتایاکہ یہ درخواست گزار جب کام کررہے تھے تو انہیں ڈائریکٹر سے کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن جب انہیں عدالتی حکم پر ملازمت سے برخاست کیا گیا تو اس کےخلاف رٹ دائر کی گئی.انہوں نے اعلی عدلیہ کےمتعددفیصلوں کاحوالہ دیتےہوئے کہا کہ مذکورہ رٹ بدنیتی پر مبنی ہے لہذا اسے خارج کیاجائے۔‏ دوسری جانب درخواست گزاروں کے وکیل نے ان کی تقرری غیرقانونی قراردینے کی استدعا کی۔‏ عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر ڈائریکٹر جنرل لاء کےخلاف دائر درخواست خارج کردی ہے۔‏

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed